سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 504
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بيت الدعا ۵۰۴ حصہ پنجم ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ستر سال کے قریب عمر سے گزر چکے ہیں۔موت کا وقت معلوم نہیں خدا جانے کس وقت آ جائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے۔ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا دیئے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا۔اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعدا پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا۔دعا کرنے میں ہلاکت ۴ جون ۱۹۰۴ء کو فر مایا۔نماز اصل میں دعا ہے اگر انسان کا نماز میں دل نہ لگے۔تو پھر ہلاکت کے لئے تیار ہو جائے کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ گویا خود ہلاکت کے نزدیک جاتا ہے۔دیکھو ایک طاقتور حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں بیکسوں کی امداد کرتا ہوں۔لیکن ایک شخص جو مشکل میں مبتلا ہے۔اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا۔نہ اپنی مشکل کا اس کے آگے بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے۔تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔خدا تعالیٰ ہر وقت انسان کو آرام دینے کے واسطے تیار ہے۔بشر طیکہ کوئی اس سے درخواست کرے۔قبولیت دعا کے واسطے ضروری ہے کہ انسان نافرمانی سے باز رہے اور بڑے زور سے دعا کرے۔کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے۔تب آگ پیدا ہوتی ہے۔حقیقت دعا اکتوبر ۱۹۰۴ء فرمایا۔یا درکھو کہ انسان کی بڑی سجاوٹ اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ دعا ہی ہے۔یہی دعا اس کے