سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 480 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 480

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸۰ حصہ پنجم کیا ہے جو اس کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہر وقت مصروف رہتا اور اپنی زندگی کا یہی مقصد سمجھتا تھا۔آپ نے ۲۱ رمئی ۱۸۸۳ء کو میر عباس علی صاحب کے نام ایک مکتوب لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ۔دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔اَلدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ۔یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کیلئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جائیں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آ جایا کرے۔مگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔سو اگر خداوند کریم چاہے گا تو یہ عاجز آپ کے لئے دعا کرتا رہے گا۔یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ سچا تعلق وہی 66 ہے جس میں سرگرمی سے دعا ہے۔“ آگے چل کر فر ماتے ہیں۔پیری مریدی کی حقیقت یہی دعا ہی ہے۔اگر مرشد عاشق کی طرح ہو اور مرید معشوق کی طرح تب کام نکلتا ہے۔یعنی مرشد کو اپنے مرید کی سلامتی کے لئے ایک ذاتی جوش ہو۔تا وہ کام کر دکھاوے۔سرسری تعلقات سے کچھ ہو نہیں سکتا۔کوئی نبی اور ولی قوت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا۔یعنی اُن کی فطرت میں حضرت احدیت نے بندگانِ خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے۔پس وہی عشق کی آگ اُن سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر اُن کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غمخواری خلق اللہ نہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں۔تب بھی وہ اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتے اور اُن کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو جان کنی سے کیا اجر ملے گا۔کیونکہ اُس کے جوشوں کی بنا کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے۔الی آخرہ مکتوبات احمد یہ جلد اول مکتوب مورخه ۲۱ مئی بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احم جلد اصفحه ۵۳۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اب اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اپنے وابستگان دامن کے لئے کس قدر جوش ان کی بھلائی کے لئے تھا۔مبار کی ہوان کو جنہوں نے اس کو پکڑا!