سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 463
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۳ حصہ پنجم خشوع و خضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قو تیں ودیعت کی ہیں۔پس یا درکھو۔اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دعا کرتے ہیں، تو یہ دُعا کچھ بھی مفید اور کارگر نہ ہوگی۔کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا، تو دوسرے سے کیا نفع اٹھا ئیں گے، اس لئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پہلے اِيَّاكَ نَعْبُدُ بتا رہا ہے کہ ہم نے تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بریکار اور برباد نہیں کیا۔یاد رکھو! کہ وہ رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اُٹھانے کے قابل بنادے، اس لئے خدا تعالیٰ نے جو ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن (۲۱) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے، بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے۔مانگنا انسانی خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا جو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔دعا ایک ایسی سرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سُرور کو دنیا کو سمجھاؤں۔یہ تو محسوس کرنے سے ہی پتہ لگے گا۔مختصر یہ کہ دُعا کے لوازمات سے اول ضروری یہ ہے کہ اعمال صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں۔کیونکہ جوشخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا اور دُعا کرتا ہے، وہ گویا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۲۸، ۱۲۹ مطبوعہ ربوہ ) (۸) دعا کے اثر کے لئے صفات الہیہ کا لحاظ ضروری ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷)۔اور قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دُعاؤں کو سنتا ہے اور وہ بہت ہی قریب ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی صفات اور اسماء کالحاظ نہ کیا جائے اور دُعا کی جائے تو وہ کچھ بھی اثر نہیں رکھتی۔صرف اس ایک راز کے معلوم نہ ہونے کہ وجہ سے نہیں، بلکہ معلوم نہ کرنے کی وجہ سے دنیا ہلاک ہو رہی ہے۔میں نے بہت سے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ہم نے بہت دُعائیں کیں اور ان کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا۔اور اس نتیجہ نے اُن کو دہریہ بنا دیا۔بات