سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 22
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور درحقیقت یہ ایک سران اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتے اور عوام کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کی مخلوق اور اسی کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح واجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔جو بحکمت کا ملہ الہی پیرا یہء حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت ذوالوجوہ ہے اور جس قد ر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے سو اس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہوگا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُم سُبُلَنَا (العنکبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان کو وہ اپنی خاص را ہیں آپ دکھلاویں گے جو مجرد عقل اور قیاس سے سمجھ میں نہیں آسکتیں اور درحقیقت خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کر رکھا ہے۔(۱) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہوسکتا ہے۔(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔حصّہ اوّل