سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 21 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 21

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۱ ایسا ہی ۱۸۸۸ء کا واقعہ آپ نے لکھا ہے کہ۔ایک دفعہ ہمیں لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم و غم پیش آئے گا۔اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جب کہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اتار کر سید محمد حسن خان صاحب وز میر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رو مال گر گیا ہے تب ہمیں وہ الہام یاد آیا۔“ حصّہ اوّل نزول المسیح صفحه ۲۳۱۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۰۹) اعجاز نما کرتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک اعجاز نما کرتہ ہے جو مخدومی حضرت مولوی عبد اللہ سنوری کے پاس ہے جو اس کرتہ پر اعجازی سرخ روشنائی کے قطرے پڑنے کے وقت خود موجود تھے چونکہ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کا تذکرہ اپنی تصنیفات میں کیا ہے اس لئے میں بھی تفصیل سے اس کو لکھ دینا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سرمہ چشم آریہ کے ایک حاشیہ میں اس کشف کو لکھا ہے :- یہ ایک ستر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر یک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات النبی کے اخلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آجاتے ہیں کلام الہی کی عبارت ان دونوں معنے کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت ہے بقدرت الہی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کر کے