سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 453 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 453

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۳ حصہ پنجم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیرت و شمائل دعاؤں کے آئینہ میں (پانچواں حصہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے سلسلہ میں آپ کی دعاؤں کا ذکر بظاہر بے جوڑ معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کی سیرت و شمائل کا صحیح آئینہ اس کی دعائیں ہیں یا دوسرے الفاظ میں اس کی آرزوؤں اور تمناؤں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اخلاق و عادات کا کیا رنگ ہے اور اس خصوص میں اس کا کیا مقام اور شان ہے یہ ایک بدیہی بات ہے کہ انسان کے جذبات اور اس کے قلبی تاثرات کا ظہور اس کی تمناؤں اور خواہشوں سے ہوتا ہے جو ایک محبوب کے لئے تمنا کہلاتی ہے اور عارف اسی کو دعا کہتا ہے۔خدائے تعالیٰ سے دور انسان تمناؤں کے تلاطم میں غوطے کھاتا ہے اور وہ اس سفلی زندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر عارف کے جذبات خدائے تعالیٰ کی تجلیات کو جذب کرتے ہیں اس لئے کہ ان میں طہارت نفس اور تقرب الی اللہ کی کشش اور قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی طرف دوڑتا ہے وہ اسباب بھی اسی سے مانگتا ہے اور اس کے نتائج کا سود مند ہونا بھی اسی سے چاہتا ہے۔غرض کسی شخص کی سیرت و شمائل کا صحیح پتہ اس کی آرزؤوں اور دعاؤں میں ملتا ہے اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کو اسی نقطہ نظر سے پیش کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی میرا مقصد یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امتیازی خصوصیات میں یہ امر بھی داخل ہے کہ آپ نے مبعوث ہو کر دعا کی حقیقت کو نمایاں فرمایا جس طرح آپ کے وجود سے زندہ خدا زندہ رسول اور زندہ کتاب کی اصطلاحیں ظاہر ہوئیں آپ نے دعا کو بھی زندہ کیا لوگ دعا کی حقیقت سے بے بہرہ ہو چکے تھے۔جس طرح دوسرے اعمال