سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 454 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 454

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۴ رسم و قشر کی صورت اختیار کر چکے تھے دعا بھی ایک بے معنی چیز ہوگئی تھی اس میں زندگی کے آثار مفقود تھے اور اس وجہ سے خود مسلمانوں کے اندر ایک جماعت پیدا ہوگئی تھی جو دعا کی منکر تھی اس لئے کہ وہ دیکھتے تھے کہ دعاؤں کی قبولیت کے آثار اور ثمرات نظر نہیں آتے اور یورپ کے خیالی فلسفہ نے اس کی اہمیت اور قوت و تاثیر سے بدظن کر دیا۔اور جو لوگ بظاہر دعا کے قائل تھے ان کی حالت یہ تھی کہ دعا کے الفاظ اور شکل تو موجود تھی اور وہ ان الفاظ کو دہراتے اور رشتے بھی تھے مگر حقیقت اور تا ثیر مفقود تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یورپ کے فلسفہ زدہ لوگوں کے لئے برکات الدعا لکھی اور دعاؤں کی عملی قبولیت کے آثار و اعجاز سے دعا کی قوت کا مشاہدہ کرا دیا اور اس طرح یہ خیالی بات نہ رہی بلکہ ایک طرف اسے علمی دلائل سے ثابت کیا دوسری طرف اس کی تاثیرات سے نا قابل تردید مشاہدہ پیش کیا۔اپنی دعاؤں کی قبولیت کو ایک عظم الشان آیت اور نشان کے رنگ میں پیش کیا اور جولوگ مغربی فلسفہ سے مرعوب ہو کر اس کا انکار کرتے تھے انہیں متحد یا نہ رنگ میں دعوت دی۔قصہ کوتاہ کن بہ بیس از مادعائے مستجاب دعا کی حقیقت اور اس کے برکات کو ایسے آسان اور واضح رنگ میں پیش کیا کہ نیچری اور فلسفی کو اس کے قبول کئے بغیر چارہ نہ رہا۔دنیا کے اندر جو آج انقلاب ہورہا ہے یقیناً اس انقلاب میں انہیں دعاؤں کا اثر ہے۔جس طرح آنحضرت ﷺ کی دعاؤں نے دنیا میں حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آہ وزاری نے عرش عظیم کو ایسی حرکت دی کہ آسمان زمین کے قریب ہو گیا اور دنیا نے ان تجلیات کا مشاہدہ کر لیا جو پہلے نظر نہ آتی تھیں۔اس طرح اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مطاع علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع میں گم اور فنا ہو کر اور اسی ردا کو پہن کر اسی رنگ میں اپنی دعاؤں سے ایک ایسا انقلاب پیدا کر دیا کہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین کی تکوین ہوگئی