سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 20 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 20

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا الہام الہی کے ماتحت دو مرتبہ رومال گم ہو گیا ۱۸۸۷ء کا واقعہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمیں موضع گجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھہ غلام نبی ہمارے ساتھ تھا جب صبح کو ہم نے جانے کا قصد کیا تو الہام ہوا کہ اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہو گا چنانچہ راستہ میں شیخ حامد علی کی ایک 66 چادر اور ہمارا ایک رومال گم ہو گیا اس وقت حامد علی کے پاس وہی چادر تھی۔“ حصّہ اوّل نزول مسیح صفحه ۲۳۰- روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۰۸،۶۰۷) فٹ نوٹ متعلق لباس۔پیٹی یا پٹکا۔حضرت اقدس کے لباس میں ایک بات رہ گئی ہے کہ آپ جب باہر تشریف لے جایا کرتے تھے تو کمر بھی ضرور باندھا کرتے تھے اور یہ پڑ کا عموماً ململ کا ہوتا تھا اور بہت بڑا ہوتا تھا۔کئی گز کا خوب اچھی طرح سے باندھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کو درد گردہ کی شکایت ہوئی تو آپ نے فلالین کا پڑکا باندھنا بھی شروع کر دیا تھا۔آپ کی عادت شریف میں کبھی نہ تھا کہ باہر آئیں اور کوٹ پہن کر نہ آئیں ہاں گھر کے دروازہ تک ( جب کبھی کسی نے آواز دی ) جس حالت میں ہوتے تشریف لے آتے تھے اور وہ لباس عموماً یہی ہوتا تھا گرمیوں میں کرتے۔اُس پر صدری اور سر پر رومی ٹوپی جو نرم بغیر پھندنے کے عموماً ہوتی تھی مگر یہ حالت آپ کی صرف گھر کے دروازہ تک محدود تھی۔مسجد میں کبھی صرف ٹوپی پہن کر تشریف نہ لاتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہوئی تھی تو فرمایا "میاں عید کے دن بھی ٹوپی حضرت خلیفہ امسیح ان ایام میں عام طور پر ٹوپی پہنا کرتے تھے مگر اس کے بعد آپ نے گڑی کی طرف توجہ کی۔بہر حال آپ مجردٹوپی پہن کر کبھی باہر نہ آتے تھے اور نہ پگڑی بدوں ٹوپی کے پہنتے تھے۔ایک مرتبہ پگڑی کو چین بھی لگی ہوئی دیکھی گئی تھی۔وہ آپ کی کسی خواہش کا نتیجہ نہ تھی بلکہ کسی نے لگادی تو ویسے ہی پہن لی۔اگر چہ صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ کپڑوں کے متعلق آپ کو یہ خیال نہ ہوتا تھا جو بن سنور کر رہنے والے لوگوں میں ہوتا ہے بلکہ جیسا بھی ہوتا پہن لیتے۔آتھم کے مباحثہ میں آپ نے سفید لٹھے کا ایک کوٹ پہنا ہوا تھا اور اسی کوٹ میں قریباً ایک بالشت کا سوراخ تھا یعنی وہ ایک طرف سے پھٹا ہوا تھا آخری دن تک آپ وہی کوٹ پہنے رہے اور ذرا بھی پروا نہیں کی اس لئے کہ آپ کے مزاج میں تکلف اور نمائش نہ تھی۔( عرفانی)