سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 433 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 433

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۳ اللهُ مِنْ عَرشِه یعنی اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے تیری حمد ( تعریف کرتا ہے۔یہ وحی براہین احمدیہ میں موجود ہے۔آپ کی طبیعت پر اس قسم کی غصہ دلانے والی باتیں اثر ہی نہیں کرتی تھیں۔کہ آپ کو گالیوں کا جواب اسی رنگ میں دینے کی تحریک ہوتی۔آپ ایسے لوگوں کے لئے دعا دیتے۔جیسا کہ فرمایا۔گالیاں سن کر دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے ایک لکھنوی حضرت مسیح موعود کی خدمت میں اس کی شوخیاں اور حضرت کا حلم وضبط نفس ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء کو ایک ڈاکٹر صاحب لکھنو سے تشریف لائے۔بقول ان کے وہ بغدادی الاصل تھے۔اور عرصہ سے لکھنو میں مقیم تھے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ چند احباب نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بغرض دریافت حال بھیجا ہے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔ان کے بیان میں شوخی۔استہزاء اور بے با کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی اور ان کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔سلسلہ کلام میں ایک موقعہ پر انہوں نے سوال کیا۔نو وارد۔عربی میں ، آپ کا دعوی ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔حضرت اقدس۔ہاں اس پر نو وارد نے نہایت ہی شوخی اور مستمز یا نہ طریق پر کہا کہ بے ادبی معاف۔آپ کی زبان سے تو قاف بھی نہیں نکل سکتا۔میں خود اُس مجلس میں موجود تھا۔اس کا طریق بیان بہت کچھ دکھ دہ تھا ایسا تکلیف دہ تھا کہ ہم اُسے برداشت نہ کر سکتے تھے۔مگر حضرت کے حلم کی وجہ سے خاموش تھے۔لیکن حضرت صاحبزادہ مولانا عبد اللطیف صاحب شہید مرحوم رضی اللہ عنہ ضبط نہ کر سکے اور وہ اس کی طرف لپک کر بولے کہ یہ حضرت اقدس ہی کا حوصلہ ہے۔سلسلہ کلام کسی قدر بڑھ گیا۔اور قریب تھا کہ