سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 17 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 17

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا وعود علیہ السلام ۱۷ حصہ اول جرا میں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور اُن پر مسح فرماتے۔بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرا ہیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔کبھی تو آگے سرا لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑھی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی۔کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔اگر جراب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول ﷺ کے اصحاب ایسے موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے جن میں سے اُن کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے۔جوتی آپ کی دیسی ہوتی ، خواہ کسی وضع کی ہو ، پٹواری ، لاہوری۔لدھیانوی سلیم شاہی ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جوکھلی کھلی ہو۔انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔گر گائی حضرت صاحب کو پہنے میں نے نہیں دیکھا۔حضرت خلیفہ اسیح "البتہ پہنا کرتے تھے۔جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڈی بٹھا لیتے۔افٹ نوٹ۔گرگابی کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ حضرت صاحب نے گرگابی بھی پہنی ہے حضرت ام المؤمنین کی ☆ روایت سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ نے اپنی سیرت المہدی میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گر گابی لے آیا۔آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان بنا دیئے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے اس لئے آپ نے اسے (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۸۳ مطبوعه (۲۰۰۸ء) اتار دیا۔میں نے خود حضرت کو گر گابی پہنے ہوئے دیکھا اور آپ کی زبان مبارک سے خود سنا بھی کہ آپ کو اس کے دائیں بائیں پاؤں کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے ایک مرتبہ گر گابی کے دائیں بائیں پاؤں کے نشان میں سفید اور سیاہ ڈورے باندھے گئے تھے لیکن چونکہ حضرت اقدس کی توجہ اور طرف مصروف تھی وہ اس کی طرف خیال بھی نہیں رکھ سکتے تھے اور بایاں پاؤں دائیں میں کبھی پڑ جاتا اور تکلیف ہو جاتی۔اس لئے آپ نے اسے اتار دیا اور پھر ساری عمر دیسی جوتی ہی پہنتے رہے۔(عرفانی)