سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 18
سیرت نضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸ حصہ اول لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دیتا ہوں وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔گھر میں یا جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا تب تو نہیں مگر مسجد اقصی کو جاتے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کے لئے تشریف لاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔اور موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے مگر کبھی اُس پر سہارا یا بوجھ دے کر نہ چلتے تھے جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے۔موسم سرما میں ایک دُھتہ لے کر آپ مسجد میں نماز کے لئے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا اور اُسے اپنے آگے ڈال لیا کرتے تھے۔جب تشریف رکھتے تو پھر پیروں پر ڈال لیتے۔کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی ، عمامہ اتار کر رات کو تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانک دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن اُن کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اُتار دیتے اور صرف چادر یانگی باندھ لیتے۔گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اُس کی خاطر بھی کرتہ اُتار دیا کرتے۔تہ بندا اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ آپ بر ہنہ ہوئے ہوں۔آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں یا تو رومال میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے۔روئی دارکوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل نہ تھا۔نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر پشمینہ کی یا دھتہ رکھا کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اوڑھتے تھے بلکہ کندھوں اور گردن تک رہتی تھی۔گلو بند اور دستانوں کی آپ کو عادت نہ تھی۔بستر ایسا ہوتا تھا کہ ایک لحاف جس میں پانچ چھ سیر روٹی کم از کم ہوتی تھی اور اچھا لمبا چوڑا ہوتا تھا۔چادر بستر کے اوپر اور تکیہ اور تو شک۔تو شک آپ گرمی جاڑے دونوں موسموں میں یہ سبب سردی کی ناموافقت کے بچھواتے تھے۔تحریر وغیرہ کا سب کام پلنگ پر ہی اکثر فرمایا کرتے اور دوات قلم ، بستہ