سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 407
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ (1) غم خلق خدا صرف از زبان خوردن چه کار است این گرش صد جاں بپاریزم هنوزش عذر می خواہ تم (۷) چوشام پر غبار و تیره حال عالمی بینم خدا بر وے فرود آرد دعا ہائے سحر گا ہم اس ہمدردی عامہ کا ذکر اور مخلوق خدا کے لئے مواسات کے جوش کا اظہار ایک ہی مرتبہ آپ نے نہیں فرمایا بلکہ آپ کی تمام تحریروں اور تقریروں میں ہزاروں مرتبہ اس دلی سوزش اور نژپ کا اظہار ہوا ہے۔جو آپ کو نوع انسان اور عام مخلوق الہی کے لئے تھی۔اس ہمدردی میں کسی کی تمیز نہ تھی۔اپنے پرائے دوست و دشمن سب یکساں تھے۔پنڈت لیکھر ام جو اسلام کا ایک تلخ اور بد زبان دشمن تھا۔جب لاہور میں قتل ہوا تو باوجود یکہ یہ خدا تعالیٰ کے ایک نشان کی تجلی تھی مگر اس حالت میں بھی جہاں تک اس کی ذات اور شخصیت کا سوال تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُس کے ساتھ ہر طرح ہمدردی تھی۔اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سعی اور کوشش سے اسے فائدہ پہنچ سکتا تو حضور اس کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے۔اور آپ نے اس کا اظہار بھی فرمایا۔عام ہمدردی میں آپ کسی قسم کی تمیز نہ کرتے تھے اور ہر انسان کو اس کا مستحق سمجھتے تھے۔طبعی طور پر دوستوں اور خدام کو رفیق بھی سمجھتے تھے اور ان کے لئے ہر قسم کی ذاتی قربانی کے لئے آمادہ رہتے تھے۔سیرت کے باب میں بیماری اور تیمارداری کے تحت میں نے صفحہ ۲۷۸ پر ایک یتیم لڑکے فجا ( جو آج کل معمار اور ایک مخلص احمدی ہے ) کا واقعہ درج کیا ہے جس دل سوزی اور محبت و ہمدردی سے حضور نے اپنے گھر میں رکھ کر اس کا علاج کیا۔اور اس کی جان بچائی۔اس کی نظیر نہیں ملتی۔ادنی درجہ اور معروف چھوٹے طبقہ کے لوگوں کی عیادت اور خبر گیری کے لئے ان کے گھروں میں چلے جانا۔یہ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم سرسری طور پر اس سے گزر جاویں۔اسی طرح میں نے شمائل واخلاق کے حصہ دوم کے نسخہ پر ایک واقعہ لکھا ہے اور اس میں دکھایا ہے کہ وہ وجود جو کبھی کسی پر بڑے سے بڑے نقصان ترجمہ اشعار۔(۶) صرف زبان سے خلق خدا کے غم کھانے کا کیا فائدہ اگر اس کے لئے سو جانیں بھی فدا کروں تب بھی میں معذرت کرتا ہوں۔(۷) جب دنیا کی تاریکی کو دیکھتا ہوں تو ( چاہتا ہوں کہ ) خدا اُس پر میری چھلی رات کی دعاؤں کی قبولیت ) نازل کرے۔