سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 398
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ میں کبھی نہیں سنا کہ آپ نے مجلس میں کسی ایک کو بھی تو کر کے پکارا ہو یا خطاب کیا ہو۔“ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه ۴۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس طرز عمل اور اسوہ کو بیان کرتے ہوئے حضرت مخدوم الملت نے ایک نکتہ معرفت لکھا ہے۔چونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اور آپ کے شائل و اخلاق کو اسی نیت سے لکھ رہا ہوں کہ ہم میں عملی روح پیدا ہو کر ہم تزکیہ، قلوب اور تہذیب نفس کی نعمت حاصل کر سکیں۔اس لئے حضرت مخدوم الملت نے جو نکتہ معرفت عمل کے لئے لکھا ہے اسے درج نہ کرنا اصل مقصد کو فوت کر دینا ہوگا۔الطَّريقَةُ كُلُّهَا آدَبٌ افسوس بہت سے ہنوز اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ادب کس قدر پاکیزگی اور طہارت دلوں میں پیدا کرتا اور اندر ہی اندر محبت کا بیج بو دیتا ہے وہ اپنے نفسوں کو مغالطہ دیتے ہیں جب خیال کرتے ہیں یا منہ سے کہتے ہیں کہ وہ آپس میں بے تکلف دوست ہیں۔اگر وہ پاک جماعت بننا چاہتے ہیں اور مبارک دنوں کے امیدوار ہیں تو آپس میں چھوٹے بڑے کا امتیاز اٹھاویں اور ذات پات اور شریف و وضیع کے خیال کو پاؤں تلے مسل ڈالیں اور ہر ایک سے رو بروادب واحترام سے پیش آئیں اور غیبت میں ادب سے نام لیں اور ذکر کریں اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند کریم وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلْ الآية (الحجر: ۴۸) کا مصداق انہیں بنادے گا اور وہ دنیا کے لئے شہداء اور مصلح ہوں گے۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفر ۴۳) مریدین اور متوسلین سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عمل اسی عہد اخوت کی بنا پر تھا جس کا حضور نے شرائط بیعت میں اعلان فرمایا تھا۔دوسرے پیروں کی طرح وہ مریدین کو اپناز رخرید غلام نہیں سمجھتے تھے۔اگر چہ ہر مرید آپ کی غلامی کو ہی عزت اور مایہ افتخار یقین کرتا ہے مگر آپ اصول مساوات کو