سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 358 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 358

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۸ چھوٹی عمر تھی ننگے پاؤں اور ننگے سرمیاں بشیر احمد صاحب تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تبسم فرما کر فرمایا کہ ”میاں بشیر احمد ! جوتی ٹوپی کہاں ہے؟ کہاں پھینک آئے ؟“ میاں بشیر احمد صاحب نے کچھ جواب نہ دیا۔اور ہنس کر بچوں سے کھیلتے کھیلتے آگے بڑھ گئے۔اور کچھ فاصلہ پر دوڑ گئے۔( یہ بات چیت اس جگہ ہوئی جہاں میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر کی دو منزلہ دوکان ہے۔اور آج کل اس میں دفتر قضاء ہے۔عرفانی ) آپ نے فرمایا۔بچوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے۔جب جوتا نہ ہو تو روتے ہیں کہ جو تالا کے دو۔اور جب جوتا منگوا کر دیا جاوے تو پھر اس کی پرواہ نہیں کرتے۔اور نہیں پہنتے۔یونہی سوکھ سوکھ کر خراب ہو جاتا ہے۔یا گم ہو جاتا ہے۔کچھ بچوں کی جبلت ہی ایسی ہوتی ہے۔کہ کسی چیز کی پروا نہیں ہوتی۔عجیب بے فکری کی عمر ہوتی ہے۔اور اکثر اپنے آپ کو پا بر ہنہ رکھنا ہی پسند کرتے ہیں۔ابھی دو چار دن کا ذکر ہے کہ جو نا کا تقاضا تھا۔جب منگوا کر دیا تو اس کی پرواہ نہیں۔میں نے کہا ” در طفلی پستی ، در جوانی مستی و در پیری ستی ، خدارا کے پرستی“ یہ سن کر ہنسے تو پھر میں نے عرض کیا کہ حافظ حامد علی کو بھیج دیا جاوے۔وہ جو تہ ٹوپی لے آئیں گے۔فرمایا جانے دو خدا جانے کہاں ہوں گے۔“ بچوں کے ہم جولیوں سے سلوک میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا۔کہ آپ کے صاحب زادگان کے ساتھ کھیلنے والے بچوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک فرمایا کرتے۔جیسے اپنے بچوں سے شفقت فرماتے۔ایک روز آپ نے ہنس کر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ فلاں لڑکا ( جو آج کل افریقہ میں ملازم ہے اور ان ایام میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت اقدس کے گھر میں رہا کرتا تھا۔کیونکہ اس کا باپ لنگر خانہ میں کام کرتا تھا۔عرفانی) حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب یا شریف احمد صاحب ( دونوں میں سے کسی ایک کا واقعہ ہے۔عرفانی) کہ رہا تھا کہ ہمارا باپ تو ہم کو بہت سے آم دیتا ہے۔صاحب زادہ