سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 11
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ریش مبارک 11 حصّہ اوّل آپ کی داڑھی اچھی گھندار تھی ، بال مضبوط موٹے اور چمکدار سید ھے اور نرم حنا سے سرخ رنگے ہوئے تھے۔داڑھی کو لمبا چھوڑ کر حجامت کے وقت فاضل آپ کتر وادیتے تھے۔یعنی بے ترتیب اور ناہموار نہ رکھتے تھے بلکہ سیدھی نیچے کو اور برابر رکھتے تھے۔داڑھی میں بھی ہمیشہ تیل لگایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک پھنسی گال پر ہو جانے کی وجہ سے وہاں سے کچھ بال پورے بھی کتر وادیئے تھے اور وہ تبرک کے طور پر لوگوں کے پاس اب تک موجود ہیں۔ریش مبارک تینوں طرف چہرہ کے تھی۔بہت خوبصورت۔نہ اتنی کم کہ چھدری اور نہ صرف ٹھوڑھی پر ہو نہ اتنی کہ آنکھوں تک بال پہنچیں۔وسمه مهندی ابتداء ایام میں آپ وسمہ اور مہندی لگا یا کرتے تھے۔پھر دماغی دورے بکثرت ہونے کی وجہ سے سر اور ریش مبارک پر آخر عمر تک مہندی ہی لگاتے رہے وسمہ ترک کر دیا تھا۔البتہ کچھ روز انگریزی وسمہ بھی استعمال فرمایا۔مگر پھر ترک کر دیا۔آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب (سیالکوٹی ) نے ایک وسمہ تیار کر کے پیش کیا تھا وہ لگاتے تھے۔اس سے ریش مبارک میں سیا ہی آگئی تھی۔مگر اس کے علاوہ ہمیشہ برسوں مہندی پر ہی اکتفا کی جو اکثر جمعہ کے جمعہ یا بعض اوقات اور دنوں میں بھی فٹ نوٹ۔مکرمی ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب لکھتے ہیں کہ مہندی عموماً نائی سے لگواتے تھے ایک حد تک یہ درست ہے۔مگر آپ حافظ حامد علی صاحب مرحوم سے بھی لگوایا کرتے تھے۔بلکہ ابتداء حامد علی ہی کثرت سے لگایا کرتے تھے اور کچھ ایسا اتفاق بھی ہو جاتا تھا کہ جب حافظ حامد علی صاحب نے مہندی لگائی تو کوئی نہ کوئی الہام ہوا ہے۔حافظ حامد علی صاحب کو میں نے خود بھی مہندی لگاتے دیکھا ہے۔۱۹۰۵ء میں دہلی کے سفر سے جب واپس تشریف لائے تو ہمقام امرتسر خان محمد شاہ مرحوم کے مکان کی بالائی منزل پر حافظ حامد علی صاحب نے مہندی لگائی۔یہ واقعہ تو میرے دیکھنے کا ہے مگر اکثر حافظ صاحب سے لگوالیتے تھے۔اور اس کو بعض اوقات فرمایا بھی کہ جب تو مہندی لگاتا ہے تو الہام بھی ہوتا ہے۔اس سے یہ مطلب نہیں تھا کہ الہام اس کے مہندی لگانے سے ہوتا تھا۔بلکہ بعض اوقات ایسا اتفاق ہوا کہ اس نے جس دن مہندی لگائی تو کوئی نہ کوئی الہام بھی ہوا۔