سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 323 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 323

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ اور نہ اس بات کی پرواہ کی۔کہ پُر تکلف کھانا آپ کے لئے نہیں آیا۔اور نہ اس غفلت اور بے پروائی پر کسی سے جواب طلب کیا اور نہ جنگی کا اظہار۔بلکہ نہایت خوشی اور کشادہ پیشانی سے دوسروں کی گھبراہٹ کو دور کر دیا۔آپ جانتے تھے کہ مہمانوں کی کثرت میں ایسی باتیں ہو ہی جایا کرتی ہیں۔صاحبزادہ سراج الحق صاحب کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے احباب و خدام میں بھی بے تکلفی کی روح پیدا کرنا چاہتے تھے۔مگر اس سے کبھی وہ بے تکلفی مراد نہیں جو اخلاق فاضلہ کے خلاف اور رندیت کے رنگ کی ہو۔بے تکلفی سے انسان میں جرات پیدا ہوتی ہے۔بناوٹ اور نمائش سے پر ہیز کی قوت نمودار ہو جاتی ہے۔صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے خود اس واقعہ کو بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک روز کا ذکر ہے کہ صبح چار بجے تھے۔گلابی موسم تھا۔خاکسار اور منشی محمد خان مرحوم عاشق مسیح موعود علیہ السلام اور منشی ظفر احمد صاحب ساکنان کپورتھلہ اور حافظ احمد اللہ خان صاحب مرحوم اور دیگر دو تین احباب مسجد مبارک میں بیٹھے تسبیح و تہلیل اور درود واستغفار میں مصروف تھے۔کسی نے اذان خوش الحانی سے دی۔جب وہ اذان دے چکا تو میرے دل میں جوش پیدا ہوا اور میں نے آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار خوش الحانی سے پڑھنے شروع کئے۔تو منشی محمد خان صاحب نے زور سے پڑھنے کے لئے فرمایا۔چونکہ مرحوم کا اور میرا گہرا تعلق تھا اور ساتھ ہی بے تکلفی تھی۔ان کے ذوق قلبی اور ارشاد پر میں نے وہی اشعار زور سے پڑھے اور وہ اشعار یہ تھے ا۔چوں مرا نورے بیٹے قومے مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند ۲ سے درخشم چوں قمر تا بم چو ر ص آفتاب کور چشم آنان که در انکار با افتاده اند ترجمہ۔ا۔چونکہ مجھے عیسائی قوم کے لئے ایک نور دیا گیا ہے۔اس وجہ سے میرا نام ابن مریم رکھا گیا ہے۔۲۔میں چاند کی طرح روشن ہوں اور آفتاب کی طرح چمکتا ہوں ، وہ اندھے ہیں جو انکار میں پڑے ہوئے ہیں۔