سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 7
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حلیہ مبارک حصّہ اوّل بجائے اس کے کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں اور ہر چیز پر خود کوئی نوٹ دوں یہ بہتر ہے کہ میں سرسری طور پر اس کا ذکر کرتا جاؤں اور نتیجہ پڑھنے والے کی اپنی رائے پر چھوڑ دوں۔حلیہ مبارک کا خلاصہ آپ کے تمام حلیہ کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ ہو سکتا ہے کہ ” آپ مردانہ حسن کا اعلیٰ نمونہ تھے۔مگر یہ فقرہ بالکل نامکمل رہے گا اگر اس کے ساتھ دوسرایہ نہ ہو کہ یہ حسن انسانی ایک روحانی چمک دمک اور انوار اپنے ساتھ لئے ہوئے تھا۔اور جس طرح آپ جمالی رنگ میں اس امت کیلئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدا کی قدرت کا نمونہ تھا اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعونیت، ہیبت اور استکبار نہ تھے۔بلکه فروتنی ، خاکساری اور محبت کی آمیزش موجود تھی۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ میں بیان کرتا ہوں کہ جب حضرت اقدس چولہ صاحب کو دیکھنے ڈیرہ بابا نا تک تشریف لے گئے تو وہاں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے سایہ میں کپڑا بچھا دیا گیا اور سب لوگ بیٹھ گئے۔آس پاس کے دیہات اور خاص شہر کے لوگوں نے حضرت صاحب کی آمد سُن کر ملاقات اور مصافحہ کیلئے آنا شروع کیا۔اور جو شخص آتا مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف آتا اور اُن کو حضرت اقدس سمجھ کر مصافحہ کر کے بیٹھ جاتا۔غرض کچھ دیر تک لوگوں پر یہ امر نہ کھلا ، جب تک خود مولوی صاحب موصوف نے اشارہ سے اور یہ کہہ کر لوگوں کو اُدھر متوجہ نہ کیا کہ ” حضرت صاحب یہ ہیں بعینہ ایسا واقعہ ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں پیش آیا تھا۔وہاں بھی لوگ حضرت ابو بکر کو رسول خدا سمجھ کر مصافحہ کرتے رہے جب تک کہ انہوں نے آپ پر چادر سے سایہ کر کے لوگوں کو اُن کی غلطی سے آگاہ نہ کر دیا۔