سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 281
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۸۱ ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جو اگر چہ بجائے خود ایک زبردست نشان ہے مگر اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اخلاق فاضلہ کا بھی ثبوت ملتا ہے جو مسافروں اور غریب الوطن لوگوں کی تیمارداری میں آپ سے ظاہر ہوتا تھا۔اوپر میں نے ایک واقعہ ایک یتیم بچہ کے علاج کا بتایا ہے۔یہ ایک غریب الوطن کا واقعہ ہے۔ایک غریب الوطن لڑکے کی تیمارداری مکرمی سیٹھ حسن صاحب رئیس یاد گیر نے ( جو سلسلہ کے مخلص اور پرانے احمدی ہیں ) عبد الکریم نامی ایک لڑکے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیجا۔اتفاق سے اس کو ایک دیوانہ کتے نے کاٹا۔اس کو علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا ، وہاں سے شفایاب ہو کر جب وہ قادیان میں آیا تو یکا یک اس کی بیماری عود کر آئی اور دیوانگی کے آثار اس پر ظاہر ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ کا دل اس غریب الوطن کی حالت پر پکھل گیا اور آپ کو دعا کے لئے خاص رقت پیدا ہوئی۔عبد الکریم کو بورڈنگ سے نکال کر اس مکان کے ایک حصہ میں رکھا جس میں خاکسار راقم الحروف عرفانی رہتا تھا وہ مکان سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کا تھا۔کسولی سے بذریعہ تار معلوم کیا گیا تو انہوں نے اُسے لا علاج بتایا۔مگر مسیح موعود علیہ السلام نے اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے اس قدر توجہ فرمائی کہ حیرت ہوتی تھی۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد آپ اس کی خبر منگواتے تھے اور اپنے ہاتھ سے دوا تیار کر کے اس کے لئے بھجواتے تھے۔آپ اس قدر بے قرار تھے کہ کوئی اپنے عزیز کے لئے بھی نہیں ہو سکتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بچالیا اور وہ اب تک زندہ ہے اور صاحب اولاد ہے اس واقعہ کی تفصیل حضرت اقدس کی تصانیف میں ہے مگر میں اس واقعہ کو دیکھنے والا ہوں یہ نشان میری آنکھوں کے سامنے میرے مکان میں ظاہر ہوا۔خود حضرت مسیح موعود نے بھی اس بے قراری اور اضطراب کا اظہار فرمایا ہے جو اس کے لئے آپ کے دل میں پیدا ہوا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا کیونکہ اس