سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 254 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 254

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سلسلہ حقہ میں داخل ہو گئے اور انہوں نے رسالہ بند کر دیا۔مولوی محمد حسین صاحب نے ان کا نام اپنے رجسٹر خریداران سے خارج نہ کیا اور باوجود حساب صاف ہو جانے کے مطالبہ کرتا رہتا۔وہ اسے جواب دیتے کہ ہم قیمت دے چکے ہیں اور ہمارا حساب صاف ہے۔مگر ان ایام میں ان کی حالت بہت کچھ قابل رحم ہو چکی تھی۔وہ بلا وجہ بھی مطالبہ کرتے تھے۔آخر انہوں نے میری معرفت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا۔حضرت نے فرمایا کہ ان دوستوں کو لکھ دو کہ وہ اس سے حساب نہ کریں اور روپیہ بھیج دیں کہ میرے ساتھ تعلق رکھتا تھا وہ جس قدر مانگتا ہے بطور احسان کے دے دیں۔چنانچہ جن احباب کے نام انہوں نے لکھے تھے میں نے ان کو خط لکھ دیئے اور ایک معقول رقم اس طرح پر ان کو دلا دی اور باوجود مخالفت اور سخت مخالفت کے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے کہ اس کو کوئی تکلیف اور نقصان نہ پہنچے اور کبھی کبھی اس عہد دوستی کی یاد بھی فرماتے ہیں۔وَوَاللَّهِ لَا انْسَى زَمَانَ تَعَلَّقِ وَلَيسَ فُؤَادِي مِثْلَ أَرْضِ تَحَجْرٍ ترجمہ۔اور خدا کی قسم میں اس تعلق کے زمانہ کو بھولتا نہیں اور میرا دل سنگلاخ زمین کی طرح نہیں ہے۔یہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب کی کیفیت اور ایک دوست قدیم کی یاد کے جذبات کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔آپ کو مولوی محمدحسین صاحب کی ہر قسم کی ایذاد ہیوں کے باوجود ان کی بہتری کا خیال رہتا تھا اور میں نے خود مولوی محمد حسین صاحب سے نہ ایک مرتبہ بلکہ متعدد مرتبہ سنا کہ وہ کہا کرتے تھے ” تم مرزا کو نہیں جانتے میں اب بھی ان کو جو کچھ کہوں گا کرالوں گا یہ مخالفت اور رنگ کی ہے میں اس حق دوستی کی ایک اور مثال مولوی محمد حسین صاحب کے واقعات ہی میں لکھنے سے نہیں رہ سکتا۔آخر میں مولوی صاحب کی حالت کچھ عجیب ہوگئی تھی۔وہ اپنے رسالہ کی اشاعت کے لئے