سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 192
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۲ کے گھر میں متواتر چھ لڑ کے پیدا ہوئے اور سب سننے والے اور بولنے والے۔گو یہ ایک ذاتی لطیفہ ہے مگر حضرت اقدس کی قبولیت دعا کا ایک اعجازی نمونہ ہے۔حضرت حکیم الامت کی اہلیہ کی عیادت مفتی صاحب کی خوش دامن جب مرض الموت میں بیمار ہوئی تو آپ اکثر ان کی بیمار پرسی کو تشریف لایا کرتے تھے اور حالت پوچھا کرتے تھے۔وہ ہمیشہ یہی عرض کرتی کہ آپ دعا کریں کہ مجھے جمعہ کے روز موت آوے اور آپ خود میرا جنازہ پڑھیں۔چنانچہ حکم الہی سے عین نماز جمعہ کے پڑھ چکنے کے بعد مفتی صاحب اور حضرت خلیفہ اول نماز جمعہ پڑھ کر اس کو دیکھنے آئے تو مریضہ نے پوچھا کہ کیا جمعہ ہو گیا ہے۔کہا گیا کہ ہاں تو کہا کہ ہٹ جاؤ ہٹ جاؤ مجھے گھبراؤ ہوتا ہے اور چند منٹ میں فوت ہو گئیں۔حضور علیہ السلام نے بعد نماز عصر اس کا جنازہ پڑھا اور فرمایا کہ میں نے عہد کیا ہوا تھا کہ خواہ میں کیسا ہی بیمار ہوں ان کا جنازہ ضرور خود پڑھوں گا۔سو الْحَمدُ لِلہ کہ میرا وعدہ پورا ہو گیا۔ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جس قدر لوگ اس جنازہ میں شامل ہوئے ہیں میں نے ان سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔ایک شخص نے متعجب ہو کر حضرت مولوی صاحب مرحوم سے عرض کیا کہ یہ کس طرح فرمایا۔تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ کیا تم پڑھا نہیں کرتے اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا سے پہلے تو زندہ کے لئے دعا مانگا کرتے ہو۔گو یہ بھی ایک لطیفہ ہے مگر وہ لوگ بڑے ہی خوش قسمت ہیں جو اس جنازہ میں شریک تھے الْحَمْدُ لِلہ میں بھی ان میں سے ہوں۔نماز جنازہ سے فارغ ہو کر دوسرے روز آپ مفتی صاحب کے گھر میں تشریف لائے اور اکیلے تشریف لائے۔حفصہ مفتی صاحب کی اہلیہ کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت میں جگہ دے دی ہے تم فکر اور غم نہ کرو۔میں بھی تمہارا باپ ہوں جس چیز کی ضرورت ہوا کرے مجھ سے کہا کرو۔اس نے رو کر عرض کیا کہ میں کمزور انسان ہوں۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں یہ اکثر بیمار رہتے ہیں وہ ان کے لئے اکثر دعائیں کیا کرتی تھی۔آپ کو توجہ دلاتی تھی اب میں کس سے کہوں گی۔فرمایا مجھ سے کہا کرو۔سرسے پگڑی اتار کر دے دی اور فرمایا کہ اس کا ایک ایک کر نہ بنا کرسب بچوں کو پہنا دو