سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 172
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۷۲ نہ ہوئی۔خان صاحب نے خیال کیا کہ دوسرے وقت انتظام ہو جائے گا۔مگر نہ ہوا غفلت ہوگئی۔پیرا کی موت مقدر تھی اور تقدیر مبرم تھی وہ فوت ہو گیا۔حضرت کو جب یہ معلوم ہوا کہ خان صاحب جونکیں نہیں لگوا سکے اور قادیان سے باہر سے جونکیں منگوانے میں انہوں نے غفلت کی ہے تو آپ بہت ناراض ہوئے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا کہ اگر یہاں سے نہ ملی تھیں تو کیوں نہ بٹالہ یا کسی دوسری جگہ سے منگوالی گئیں خواہ کچھ بھی خرچ ہو جاتا۔خان صاحب کو حضرت کی اس ناراضگی کا بہت احساس ہوا اور اب تک ہے اور جب اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں۔حاجی فضل حسین مہاجر شاہ جہان پوری کی عیادت حاجی فضل حسین صاحب مہاجر شاہ جہان پوری نہایت مخلص مہاجر اور ارادت مند احمدی تھے۔بہت صفائی پسند اور زندہ دل طبیعت رکھتے تھے۔باوجود پیرانہ سالی کے بھی بالوں کو خوب سنوار کر رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی ان کی اس صفائی اور نظافت کو مسرت آمیز نظر سے دیکھا کرتے تھے۔وہ بیمار ہوئے تو مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھا کہ ان کی عیادت کے لئے عموماً جایا کرتے تھے بلکہ کچھ عرصہ تک تو معمول ہو گیا کہ ہر روز سیر کو نکلتے وقت مریضوں کی عیادت کو چلے جاتے۔حاجی شہاب الدین صاحب اور بابا الہی بخش کی عیادت حاجی شہاب الدین لود بانوی اور بابا الہی بخش صاحب مالیر کوٹلوی جب بیمار ہوئے تو آپ ان کی عیادت کو بھی لازماً جاتے۔حاجی شہاب صاحب بہت تیز مزاج تھے۔مگر اخلاص مند دل اُن کے پہلو میں تھا۔بابا الہی بخش بہت معمر تھا اور مالیر کوٹلہ کا رہنے والا تھا وہ بیمار ہو گیا اور اس حالت میں حب وطن کے جذبہ کی بجھی ہوئی چنگاری اس کے قلب میں سُلگ پڑی اس نے اسے بے قرار کیا اور حضرت مسیح موعود سے ایک روز اُس نے اجازت چاہی آپ نے فرمایا کہ اب تم ضعیف ہو گئے