سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 165
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۶۵ ہوتے نہایت ہی پیارے الفاظ میں تسلی اور اطمینان دلاتے اور رو بخدا رہنے کی وصیت فرماتے رہتے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر مبرم اور اجل مقدر تھی۔مہر حامد فوت ہو گیا آپ نے خود اس کا جنازہ پڑھا اور اس کے اخلاص اور وفا دارانہ تعلق کا ذکر کرتے رہے۔اس کا خاندان احمدی تھا اس کے بڑے بیٹے میاں مہرالدین مرحوم کے ساتھ اسی محبت اور پیار سے پیش آتے جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے سے۔غرض آپ نے مہر حامد کی عیادت کے لئے جانے سے نہ تو اپنی حیثیت اور رتبہ کا کبھی خیال کیا اور نہ اس بات نے آپ کو کبھی روکا کہ اس کا مکان ایسی جگہ اور ایسی حالت میں ہے کہ وہاں تعفن اور بد بو سے دماغ پھٹا پڑتا ہے اور نہ کسی اور چیز نے۔آپ بڑی ہی بشاشت کے ساتھ جاتے اور عیادت فرماتے تھے۔مولوی محمد دین صاحب کی علالت کا واقعہ مولوی محمد دین صاحب بی اے ( علیگ) احمدی مبلغ امریکہ کے نام سے سب آگاہ ہیں مولوی صاحب نے ایک عرصہ تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی ایڈیٹری کی اور سالہا سال تک تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر اور بعد میں مینیجر رہے۔وہ قادیان میں انٹرنس پاس کر کے آئے تھے اور پھر قادیان ہی کی تربیت میں انہوں نے بی۔اے کی ڈگری علی گڑھ کالج سے حاصل کی۔قادیان میں اُن کو بیماری ہی لائی تھی اور صرف بیماری ہی جو جسمانی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ سے دور ہوئی بلکہ آپ کے اخلاق کریمانہ اور توجہ باطنی نے انہیں پھر یہاں ہی کا کر دیا اور وہ واپس نہ جا سکے۔جب وہ اولاً آئے تھے تو ان کو ایک ناسور تھا جس کے علاج سے وہ تھک چکے تھے۔قادیان میں رہتے ہوئے ان کو ایک مرتبہ طاعون ہو گیا۔حضرت اقدس نے ان کی تیمارداری کا ایسا انتظام فرمایا کہ حقیقت میں وہ انتظام مولوی صاحب کے والدین اور اعزا بھی نہ کر سکتے۔آپ نے ان کے لئے ایک خیمہ کھلی ہوا میں بطور سیگر یکیشن کیمپ کے لگوا دیا اور برادرم شیخ عبد الرحیم صاحب نو مسلم کو خصوصیت کے ساتھ ان کی تیمارداری کے لئے مقررفرمایا جنہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل واطاعت کا وہ نمونہ دکھایا کہ باوجود یکہ طاعونی حملے کی اس شدت میں رشتہ دار اور والدین تک طاعونی مریضوں