سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 142
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۱۴۲ حصّہ اوّل (۱۱) میاں رحمت اللہ باغانوالہ کا واقعہ میاں رحمت اللہ باغانوالہ سیکرٹری انجمن احمد یہ بنگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص خادموں میں سے ہیں اور بنگہ کی جماعت میں ان کے بعد خدا تعالیٰ نے بڑی برکت اور ترقی بخشی۔۱۹۰۵ء میں جبکہ حضرت اقدس باغ میں تشریف فرما تھے۔میاں رحمت اللہ قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ مہمان خانہ میں حسب معمول ٹھہرے ہوئے تھے۔میاں نجم الدین مرحوم لنگر خانہ کے داروغہ اور مہتم تھے۔ان کی طبیعت کسی قدر کھڑی واقع ہوئی تھی۔اگر چہ اخلاص میں وہ کسی سے کم نہ تھے۔اور سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کے آرام کا اپنی طاقت اور سمجھ کے موافق بہت خیال رکھتے تھے۔اور مجتہدانہ طبیعت پائی تھی۔میاں رحمت اللہ صاحب نے کچھ تکلف سے کام لیا۔روٹی کچھی ملی اور وہ بیمار ہو گئے۔مجھ کوخبر ہوئی میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ روٹی کچی تھی۔اور تنور کی روٹی عام طور پر کھانے کی عادت نہیں مجھے ان کی تکلیف کا احساس ہوا۔میری طبیعت بے دھڑک کسی واقعہ ہوئی ہے۔میں سیدھا حضرت صاحب کے پاس گیا۔اطلاع ہونے پر آپ فوراً تشریف لے آئے۔اور باغ کی اُس روش پر جو مکان کے سامنے ہے ٹہلنے لگے۔اور دریافت فرمایا کہ میاں یعقوب علی کیا بات ہے؟ میں نے واقعہ عرض کر کے کہا کہ حضور ! یا تو مہمانوں کو سب لوگوں پر تقسیم کر دیا کرو اور یا پھر انتظام ہو کہ تکلیف نہ ہو۔میں آج سمجھتا ہوں اور اس احساس سے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے مامورو مرسل کے حضور اس رنگ میں کیوں عرض کی؟ مگر اس رحم و کرم کے پیکر نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی کہ میں نے کس رنگ میں بات کی ہے۔فرمایا ”آپ نے بہت ہی اچھا کیا کہ مجھ کو خبر دی میں ابھی گھر سے چپاتیاں پکوانے کا انتظام کر دوں گا۔اور میاں نجم الدین کو بھی تاکید کرتا ہوں اُسے بلا کر میرے پاس لاؤ۔یہ بہت اچھی بات ہے۔اگر کسی مہمان کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے بتاؤ۔لنگر خانہ والے نہیں بتاتے اور ان کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا۔اور یہ بھی فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کہاں ہیں؟ وہ زیادہ بیار تو نہیں ہو گئے اگر وہ آسکتے ہوں تو ان کو بھی یہاں لے آؤ۔“ میں نے واپس آکر میاں رحمت اللہ صاحب سے ذکر کیا۔وہ بیچارے بہت محجوب ہوئے کہ