سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 132
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ حصّہ اوّل آگے بڑھا اور عرض کیا کہ حضور اب سوار ہوتا ہوں حضور تشریف لے جائیں۔اللہ ! اللہ ! کس لطف سے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ۔اچھا ہمارے سامنے سوار ہو جاؤ۔میں یکہ میں بیٹھ گیا اور سلام عرض کیا تو پھر حضور واپس ہوئے۔مجھے یاد ہے کہ محمد شادی خان صاحب بھی اس وقت بٹالہ جانے کے واسطے میرے ساتھ سوار ہوئے تھے۔انہوں نے حضور کی اس کریمانہ عنایت خاص پر تعجب کیا اور دیر تک راستہ میں مجھ سے تذکرہ کرتے رہے اور ہم خوش ہو ہو کر آپ کے اخلاق کریمانہ کے ذکر سے مسرور ہوتے تھے۔اے خدا کے پیارے اور محمد کے دلارے مسیح موعود تجھ پر ہزار ہزا ر سلام ہوں کہ تو اپنے خادموں کے ساتھ کیسا مہربان تھا۔تیری محبت ہمارے ایمانوں کے لئے اکسیر تھی۔جس سے ہمارے مس خام کو کندن ہونے کا شرف حاصل ہے۔تیرے اخلاق کریمانہ اب بھی یاد آ آ کر خدا تعالیٰ کے حضور میں ہمارے قرب کا موجب ہورہے ہیں۔“ حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ خود راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ ایسے بہت سے واقعات کا عینی شاہد اللہ کے فضل سے ہے۔اس واقعہ کو پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت کے میں صرف اس اسوہ ہی کو پیش نہیں کر رہا ہوں جو مہمان نوازی، اکرام ضیف اور مشایعت مہمان کے پہلوؤں پر حاوی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو اپنا کام آپ کرنے میں قطعاً تامل نہ ہوتا تھا اور معا یہ واقعہ آپ کی صداقت کی بھی ایک زبردست دلیل ہے۔اگر تکلف اور تصنع کو آپ کے اخلاق کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا تو آپ اپنے مخلص اور جانثار مریدوں کے درمیان اس طرح پر کھڑے ہو کر اپنے ایک خادم کو دودھ نہ پلاتے جیسے ایک خادم اپنے آقا کو پلاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ محبت اور ہمدردی مخلوق کے اس مقام پر کھڑا تھا جہاں انسان باپ سے بھی زیادہ مہربان اور شفیق ہوتا ہے۔وہ اپنے خادموں کو