سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 28 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 28

28 اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ادب اور حمیت اور احترام ان کے دلوں میں پلایا گیا ہے اور ڈرتے بھی ایسے ہیں جیسے کسی بڑے سخت گیر ہے۔میں اس ڈر اور ہیبت اور معاً محبت اور مودت کو نہ تو دنیا کے کسی پیرایہ میں بیان کر سکتا ہوں اور نہ کسی دنیا کے بیٹے کو سمجھا سکتا ہوں اس کو وہ مومن ہی خوب سمجھ سکتا ہے جس کا خدا تعالٰی سے تعلق ہو۔ایک طرف تو خدا کا جلال اور عظمت اور خشیت اور تقویٰ ایسے طور سے بیان کی گئی ہے کہ تصور سے پیٹھ کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور ایک جوان بوڑھا ہو جاتا ہے۔اور با ایں ہمہ عشاق اس کی طرف یوں بڑھتے ہیں جیسے شیر خوار بچہ ماں کی پستان کی طرف حالانکہ فطرتا انسان ڈراؤنی چیز سے بھاگتا ہے گروہ بات کیا ہے کہ روحیں آگ اور پانی کے سمندروں کی کچھ بھی پرواہ نہ کر کے خدا سے ملنے کو تڑپتی ہیں خدا تعالٰی کے مظہروں اس کے خلیفوں کی ہیبت اور عظمت اس شخص کی مانند نہیں ہوتی جو قہر اور سطوت سے غضباً قلوب پر متمکن ہو جاتا اور ایک خوفناک زہریلے سانپ کی طرح غضب کے مقناطیسی اثر سے چھوٹے جانداروں کو بے ہوش کر دیتا ہے اور نہ ان کا حلم اور فروتنی ایک بے غیرت بد دل کی سی ہوتی ہے جو لازماً ہر آنکھ اور دل سے اتر جاتا ہے ان کی ہیبت محبت اور پیار سے ملی ہوئی اور ان کا پیار ارب اور عظمت کو ساتھ لئے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے سالیہ کے نیچے پاکیزگی اور طہارت اور عفت اور تقویٰ اور اوامر الہی کی پابندی آرام پاتی ہے اور شیطان اور اس کی ذریت کو ان جگہوں میں دخل نہیں ملتا ورنہ ممکن ہے کہ گرفت نہ ہو کبھی قسم کی کوئی دھمکی اور سزا نہ ہو اور نظام میں خلل نہ آجائے اور گھر سارے لوازم میں معاشرت کے عمدہ سے عمدہ محاسن کا قابل تقلید نمونہ ہو۔ایک تند خوجس کا نفس پر ذرا بھی قابو نہیں اور جو در حقیقت اپنے آپ میں ہر وقت جلتے ہوئے تنور میں پڑا ہے یہ سن کر جلد بول اٹھے گا اور انکار اور اعتبار سے میرے اس بیان کے دیکھے گا اس لئے کہ اس کے نزدیک اصطلاحی رعب اور ادب اور غیرت قائم رکھنے