سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 20
20 میں کچھ سمجھنے اور ماننے والا میں خدا ہی خوب جانتا ہے کہ میں اس مجمع میں کس قدر شرمندہ ہوا۔اور مجھے سخت افسوس ہوا کہ کیوں میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی بوڑھے تجربہ کار نرم خو صوفی کی پیروی کی۔برادران! اس ذکر سے جسے میں نے نیک نیتی سے لکھا ہے میری غرض یہ ہے کہ اس انسان میں جو مجبولاً پاکیزہ فطرت اور حقوق کا ادا کرنے والا اور اخلاق فاضلہ کا معلم ہو کر آیا ہے اور دوسرے لوگوں میں جنہیں نفس نے مغالطہ دے رکھا ہے کہ وہ بھی کسی کی صحبت میں کوئی گھائی طے کر چکے ہیں اور ہنوز رہی اخلاق سے ذرہ بھی حصہ نہیں لیا بڑا فرق ہے۔ہاں وہ بات تو رہ ہی گئی۔اس بد مزاج دوست کا واقعہ سن کر آپ معاشرت نسواں کے بارے میں دیر تک گفتگو کرتے رہے اور آخر میں فرمایا "میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازه کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔اور یا ایں ہمہ کوئی دلآزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نقلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے"۔کا مجھے اس بات کے سننے سے اپنے حال اور معرفت اور عمل کا خیال کر کے کس قدر شرم اور ندامت حاصل ہوئی بجز خدا کے کوئی جان نہیں سکتا۔میری روح میں اس وقت میخ فولادی کی طرح یہ بات جاگزیں ہوئی کہ یہ غیر معمولی تقوی اور خشیت اللہ اور دقائق تقویٰ کی رعایت معمولی انسان کا کام نہیں ورنہ میں اور میرے امثال سینکڑوں اسلام اور اتباع سنت کے دعوئی میں کم لاف زنی نہیں کیا کرتے اور اس میں شک نہیں کہ متعمد بے باک اور حدود الہیہ سے متکبرانہ تجاوز کرنے والے بھی نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ قوت قدسیہ اور تیز شامہ ہمیں نہیں لی یا اور