سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 62 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 62

62 ضمیمہ ایک روز اخراجات کا تذکرہ ہوا۔ہمارے ایک مکرم دوست نے کہا کہ میں اتنے میں گزاراہ کرتا ہوں۔کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ۔آپ نے فرمایا الیہ تعالی بہتر جانتا ہے کھانے کے متعلق میں اپنے نفس میں اہم تحمل پاتا ہوں کہ ایک پیسہ پر دو دو وقت بڑے آرام سے بسر کر سکتا ہوں۔" اور فرمایا ”ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ انسان کہاں تک بھوک کی برداشت کر سکتا ہے اس کے امتحان کے لئے چھ ماہ تک میں نے کچھ نہ کھایا کبھی کوئی ایک آدھ لقمہ کھا لیا اور چھ ماہ کے بعد میں نے اندازہ کیا کہ چھ سال تک بھی یہ حالت لمبی کی جاسکتی ہے۔اس اثناء میں دو وقت کھانا گھر سے برابر آتا تھا اور مجھے اپنی حالت کا انتظا منظور تھا۔اس اتفا کی تدابیر کے لئے جو زحمت مجھے اٹھانی پڑتی تھی شاید وہ زحمت اوروں کو بھوک سے نہ ہوتی ہوگی۔میں وہ دو وقت کی روٹی دو تین مسکینوں میں تقسیم کر دیتا اس حال میں نماز پانچوں وقت مسجد میں پڑھتا اور کوئی میرے آشناؤں میں سے کسی نشان سے پہچان نہ سکا کہ میں کچھ نہیں کھایا کرتا " فرمایا ”خدا تعالٰی نے جس کام کے لئے کسی کو پیدا کیا ہے اس کی تیاری اور لوازم اور اس کے سر انجام اور مہمات کے ملے کے لئے اس میں قومی بھی تناسب حال پیدا کئے ہیں دوسرے لوگ جو حقیقت فطرت کے مقتضا سے وہ نہیں رکھتے اور ریاستوں میں پڑ جاتے ہیں آخر کار دیوانے اور منحبط الحواس ہو جاتے ہیں " اسی ضمن میں فرمایا کہ طبیبوں نے نیند کے نئے طبعی اسباب مقرر کئے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب خدا تعالٰی کا ارادہ ہوتا ہے کہ ہم سے کلام کرے اس وقت پوری بیداری میں ہوتے ہیں اور یک دم ربودگی اور غنودگی وارد کر دیتا ہے اور اس قومی