سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 35
35 نسبت بہت زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔حضرتہ کا حوصلہ اور حلم یہ ہے کہ میں نے سینکڑوں مرتبہ دیکھا ہے آپ اوپر دالان میں تنہا بیٹھے لکھ رہے ہیں، یا فکر کر رہے ہیں اور آپ کی قدیمی عادت ہے کہ دروازے بند کر کے بیٹھا کرتے ہیں ، ایک لڑکے نے زور سے دستک بھی در) اور منہ سے بھی کہا ہے ابا بوا کھول آپ وہیں اٹھے ہیں اور دروازہ کھولا ہے کم عقل بچہ اندر گھسا ہے اور ادھر ادھر جھانک انک کر لئے پاؤں نکل گیا ہے۔حضرت نے پھر معمولاً دروازہ بند کر لیا ہے۔دو ہی منٹ گزرے ہوں گے جو پھر موجود اور زور زور سے دھکے دے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں ابا برا کھول آپ پھر بڑے اطمینان سے اور جمعیت سے اٹھے ہیں اور دروازہ کھول دیا ہے بچہ اب کی دفعہ بھی اندر نہیں گھستا ذرا سر ہی اندر کر کے اور کچھ منہ میں بڑبڑا کے پھر الٹا بھاگ جاتا ہے۔حضرت بڑے ہشاش بشاش بڑے استقلال سے دروازہ بند کر کے اپنے نازک اور ضروری کام پر بیٹھ جاتے ہیں۔کوئی پانچ ہی منٹ گزرے ہیں تو پھر موجود اور پھر وہی گرما گرمی اور شورا شوری کہ کیا ہوا کھول اور آپ اٹھ کر اسی وقار اور سکون سے دروازہ کھول دیتے ہیں اور منہ سے ایک حرف تک نہیں نکالتے کہ تو کیوں آتا اور کیا چاہتا ہے اور آخر تیرا مطلب کیا ہے جو بار بار ستاتا اور کام میں حرج ڈالتا ہے۔میں نے ایک دفعہ گنا کوئی ہمیں دفعہ ایسا کیا اور ان ساری دفعات میں ایک دفعہ بھی حضرت کے منہ سے زجر اور توبیخ کا کلمہ نہیں نکلا۔بعض اوقات دوا در مل پوچھنے والی گنواری عورتیں زور سے دستک دیتی ہیں اور اپنی سادہ اور گنواری زبان میں کہتی ہیں۔"مرحاجی جرا ہوا کھولو تاں " حضرت اس طرح اٹھتے ہیں جیسے مطاع ذی شان کا حکم آیا ہے اور کشادہ پیشانی سے باتیں کرتے اور دوا بتاتے ہیں۔ہمارے ملک میں وقت کی قدر پڑھی ہوئی جماعت کو بھی نہیں تو پھر گنوار تو اور بھی وقت کے ضائع کرنے والے ہیں۔ایک عورت بے معنی بات چیت کرنے لگ گئی ہے اور اپنے گھر کا رونا اور ساس نند کا گلہ شروع کر دیا ہے اور گھنٹہ بھر اسی میں ضائع کر دیا ہے آپ