سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 34 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 34

34 خلا ملا کے رفیق سے کونسی بات مخفی رہ سکتی ہے۔میں ہمیشہ سے رسول کریم کی نبوت کی بڑی محکم دلیل سمجھا اور مانا کرتا ہوں آپ کے ہم عمر اور محرم راز دوستوں اور ازواج مطہرات کے آپ پر صدق دل سے ایمان لانے اور اس پر آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد پورے ثبات اور وفاداری سے قائم رہنے کو۔صحابہ کو ایسی شامہ اور کامل زیر کی بخشی گئی تھی کہ وہ اس محمد میں جو انا بشر مثلکم کہتا اور اس محمد ال میں جو اِنِّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کتا ساف تميز کرتے وہ بے غش اخوان الصفا اور آپ کی بیبیاں جیسے اس محمد سے جو بشر محض ہے ایک وقت انبساط اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے اور کبھی کبھی معمولی کاروبار کے معاملات میں پس و پیش اور رد و قدح بھی کرتے ہیں اور ایک وقت ایسے اختلاط اور موانست کی باتیں کر رہی ہیں کہ کوئی حجاب حشمت، اور پردہ تکلف درمیان نہیں وہی دوسرے وقت محمد رسول ﷺ کے مقابل یوں سرنگوں اور متادب بیٹھے ہیں گویا لٹھے ہیں جن پر پرندے بھی بے باکی سے گھونسلا بنا لیتے ہیں اور تقدم اور رفع صوت کو آپ کی حضور میں حبط اعمال کا موجب جانتے ہیں اور ایسے مطیع و منقاد ہیں کہ اپنا ارادہ اور اپنا علم اور اپنی رسم اور اپنی ہوا امر رسول کے مقابل یوں ترک کر دیتے ہیں کہ گویا وہ بے عقل اور بے ارادہ کٹھ پتلیاں ہیں ایسی مخلصانہ اطاعت اور خودی اور خود رائی کی کینچلی سے صاف نکل آنا ممکن نہیں جب تک دلوں کو کسی کے بچے بے ریا اور منجانب اللہ زندگی کا زندہ یقین پیدا نہ ہو جائے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں حضرت اقدس کو آپ کی بی بی صاحبہ صدق دل سے مسیح موعود مانتی ہیں اور آپ کی تبشیرات سے خوش ہوتی اور انذارات سے ڈرتی ہیں۔غرض اس برگزیدہ ساتھی کو برگزیده خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے اور علی ہذا جتنا جتنا آپ کا کوئی گہرا دوست اور واقف کار جلیس ہے وہ اسی اندازہ پر آپ کی راستی کا قائل ہے اور جتنا در از عرصہ کوئی آپ کی خدمت میں رہے وہ محبت اور نیک گمان میں دوسروں کی۔