سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 17
17 زندگی میں ایسے سکون اور وقار اور جمعیت سے زندگی بسر کر سکے؟ ایک ہی خطرناک اور قابل اصلاح عیب ہے جو سارے اندرونی فتنوں کی جڑ ہے۔وہ کیا؟ بات بات پر نکتہ چینی اور چڑ۔اور یہ عجیب ایسے منقبض اور تنگ دل کی خبر دیتا ہے کہ جس کی نسبت بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ اس عالم میں دم نقد دوزخ میں ہے۔دس برس سے میں بڑی غور اور نکتہ چینی کی نگاہ سے ملاحظہ کرتا رہا ہوں اور پوری بصیرت سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت اقدس کی جبلت پاک میں شیطان کے اس مس کا کوئی بھی حصہ نہیں۔میں خود اپنے اوپر اور اکثر افراد پر قیاس کر کے کہہ سکتا ہوں کہ یہی اعتراض اور نکتہ چینی اور حرف گیری اور بات بات میں چڑ چڑا پن کی فطرت ہے جس نے بتوں کے آرام اور عیش کو مکدر کر رکھا ہے اور ہر ایک شخص جس کی ایسی طبیعت ہے اور قلیل اور بہت ہی قلیل ہیں جو اس عیب سے منزہ ہیں) اس کھا جانے والی آگ کے فوری اثر کو محسوس کرتا اور گواہی دے سکتا ہے کہ بالآخر یہی فطرت ہے جو تمام اخلاقی مفاسد کی اصل اصول ہے اور اس سے زیادہ خدا اور مخلوق کے حقوق کی تباہی کی بنیاد باہر ھنے والی کوئی شے نہیں اور بالآخر یہی تلخی آفرین طبیعت ہے جس نے اس عالم کو دار الکدورت اور بیت المحن بنا رکھا ہے۔چنانچہ خدا تعالی کی کتاب حکیم نے جہاں چاہا ہے کہ اس دوسرے عالم کا دار السلام اور بیت السرور ہونا ثابت کرے اور اس کی قابل رشک خوشیوں اور راحتوں کا نقشہ بالمقابل اس عالم کے دکھائے ان الفاظ سے بہتر تجویز نہیں فرمائے۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ عَل اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ یعنی بہشت میں وہ قوت ہی انسانوں کے سینہ ہے ہی نکال ڈالی جائے گی جو عداوتوں اور کینوں اور ہر قسم کے تفرقوں کی موجب ہوتی ہے۔جس شخص میں اس