سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 18
18 وقت وہ موجود نہ ہو ہم صاف کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسی عالم میں بہشت بریں کے اندر ہے۔اور چونکہ یہ قوت ایک چشمہ کی طرح ہے اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ اور اخلاق کس پایہ اور کمال کے ہوں گے۔اس بات کو اندرون خانہ کی خدمتگار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں اور قطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع کی زیر کی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت محمدہ طرح سے محسوس کرتی ہیں۔وہ تعجب سے دیکھتی ہیں اور زمانہ اور اپنے اور اپنے گردو پیش کی عام عرف اور برتاؤ کے بالکل بر خلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں اور میں نے بارہا انہیں خود حیرت سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے که "مرجا نیوی دی گل بڑی مندا ہے " ایک دن خود حضرت فرماتے تھے کہ ”فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں " اور فرمایا و ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکریہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔" ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضرت اس بات سے بہت کشیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے"۔جن دنوں امرت سر میں ڈپٹی آتھم۔مباحثہ تھا ایک رات خان محمد شاہ مرحوم کے مکان پر بڑا مجمع تھا۔اطراف سے بہت سے دوست مباحثہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔حضرت اس دن جس کی شام کا واقعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں معمولاً سر درد سے بیمار ہو گئے تھے شام کو جب مشتاقان زیارت همه تن چشم انتظار ہو رہے تھے۔حضرت مجمع میں تشریف لائے۔منشی عبدالحق صاحب لاہوری پٹنہ نے کمال محبت اور رسم دوستی کی بنا پر بیماری کی تکلیف کی