سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 8 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 8

00 قوت کا ہونا چاہئے کہ اس میں خدا بینی اور خدا نمائی کی سب سے بڑی طاقت ہو۔اور یہ قوت دو رنگ کی ہونی چاہئے یعنی ایک طرف تو وہ دلائل قویہ اور حج ساطعہ اور معارف یقینیہ سے قلوب کو مطمئن اور سیراب کر دے اور اس کے روح قدس سے بھرے ہوئے بیان اور زبان سے دل خود بخود بول اٹھیں کہ خدا ہے۔اور سچائی کی روح ان میں نفخ ہو جائے اور ناگہاں ایک پاک تبدیلی ان میں پیدا ہو جائے۔اور دوسری طرف قادرانہ پیشگوئیوں پر جو علم غیب اپنے اندر رکھتی ہوں قدرت رکھتا ہو۔اور یوں غیب الغیب مقتدر ہستی کی خلافت کا واقعی طور پر سزادار ہو۔اس وقت وہ در حقیقت رسول کریم کا پورا مظہر ہو گا۔اور ایسے ہی لوگ حقیقتہ" زمانہ کو اپنے کامل نمونے سے درست کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ رسول کریم کو بھی ان ہی دو طاقتوں کے سبب سے پورا امتیاز ہے جہاں آپ نے قرآن کریم جیسی مدلل اور معقول علمی کتاب سے قلوب کو مسخر اور باطل کا معنوی استیصال کیا اس کے ساتھ بلا فصل قادرانہ پیشگوئی کی تصدیق میں مخالفوں کو صوری اور مادی ذلت بھی دکھائی۔کیا ہی سچ کہا گیا ہے۔نے علمش کسی رسید و نے شک کبر اگر ور زور متکبیرے یک طرف حیران از د شاہان وقت یک طرف مبهوت ہر دانشوری غرض اس وقت پھر وہی وقت آگیا ہے کہ اس رنگ وصفت کا مجدد و مصلح ہو۔قوم میں سخت تفرقہ اور تفریق ہے۔اس وقت ۷۲ فرقے نہیں بلکہ جتنے انسان ہیں ہر ایک بجائے خود ایک فرقہ ہے۔خود رائی اور ذاتی اجتہاد کا یہ عالم ہے کہ ایک مولوی دوسرے مولوی کے نزدیک راستی سے دور اور خطا سے قریب ہے۔دو مولوی ایک ہی شہر اور گاؤں میں اس طرح کارروائی کر رہے ہیں گویا دو الگ الگ مذہبوں