سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 54 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 54

54 سے فارغ ہو کر پھر کسی کی ڈگری یا ڈسمس یا سزا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور نہ اسے در حقیقت کسی سے ذاتی لگاؤ یا اشتعال ہوتا ہے اسی طرح حضرت تحریر میں ابطال باطل اور احقاق حق کے لئے لوجہ اللہ لکھتے ہیں آپ کے نفس کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ایک روز فرمایا ”میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالٰی نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا“ آپ کی استقامت اور قوت قلب اولوالعزم انبياء عليهم الصلوة والسلام کی طرح کسی ترہیب اور رعب انداز نظارہ سے متاثر نہیں ہوتی۔کوئی ہولناک واقعہ اور غم انگیز سانحہ آپ کی توجہ کو منتشر اور مفوض کام سے غافل نہیں کر سکتا۔اقدام قتل کا مقدمہ جسے پادریوں نے برپا کیا اور جن کی تائید میں بعض ناعاقبت اندیش نام کے مسلمان اور آریہ بھی شامل ہو گئے تھے ایک دنیا دار کا پتہ پگھلا دینے اور اس کا دل پریشان اور حواس مختل کر دینے کو کافی تھا مگر حضرت کے کسی معاملہ میں لکھتے ہیں۔معاشرت میں۔باہر خدام سے کشادہ پیشانی اور رافت سے ملنے میں غرض کسی حرکت و سکون میں کوئی فرق نہ آیا۔کوئی آدمی قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ پر کوئی مقدمہ ہے کسی خوفناک رپورٹ کو جو کسی وقت کسی دوست کی طرف سے پہنچی ہے کہ فلاں شخص نے یہ مخبری کی ہے اور فلاں جگہ بڑی بڑی سازشیں آپ کے خلاف ہو رہی ہیں اور فلاں شخص شملہ کے پہاڑوں سے سر ٹکراتا اور ماتھا پھوڑتا پھرتا ہے کہ آپ کے دامن عزت پر اپنے ناپاک خون کا کوئی دھبہ ہی لگا رے کبھی آپ نے مرعوب دل سے نہیں سنا۔آپ ہمیشہ فرماتے ہیں کہ کوئی معاملہ زمین پر واقع نہیں ہوتا جب تک پہلے آسمان پر طے نہ ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے بندہ