سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 44
44 مخاطب ہوتا ان ہی لفظوں میں ہوتا ”اللہ دادا بھائی توں ایہ کم کرناں"۔غرض بڑے بڑے شیخ اور پیر دیکھے گئے ہیں انہیں ادب اور احترام سے اپنے متوسلین کے نام لینا گویا بڑی بدکاری کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے۔میں نے اتنے دراز عرصہ میں کبھی نہیں سنا کہ آپ نے مجلس میں کسی ایک کو بھی تو کر کے پکارا ہو یا خطاب کیا ہو۔اس بات کی طرف ہماری جماعت کو خصوصاً لاہوری احباب کو خاص توجہ کرنی چاہئے۔ان میں میں نے دیکھا ہے ایک دوسرے کا نام ادب سے لیا نہیں جاتا۔ابھی ایک نوجوان قادیان میں آئے تھے وہ احباب کے ذکر کے سلسلہ میں جب کسی کا ذکر آیا ضمیر واحد اور فعل واحد کا استعمال کرتے تھے جیسے کوئی معمولی حقیر لوگوں کا ذکر کرتا ہے۔افسوس بہت سے ہنوز اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ادب کس قدر پاکیزگی اور طہارت دلوں میں پیدا کرتا اور اندر ہی اندر محبت کا بیج بو دیتا ہے وہ اپنے نفسوں کو مغالطہ دیتے ہیں جب خیال کرتے ہیں یا منہ سے کہتے ہیں کہ وہ آپس میں بے تکلف دوست ہیں۔اگر وہ پاک جماعت بننا چاہتے ہیں اور مبارک دنوں کے امیدوار ہیں تو آپس میں چھوٹے بڑے کا امتیاز اٹھا دیں اور بات بات اور شریف و وضیع کے خیال کو پاؤں تلے مسل ڈالیں اور ہر ایک سے روبرو ادب و احترام سے پیش آئیں اور غیبت میں ادب سے نام لیں اور ذکر کریں اس وقت یوں ہوگا کہ خداوند کریم وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ عَلِ الآنیہ کا مصداق انہیں بنا دے گا اور وہ دنیا کے لئے شہداء اور مصلح ہوں گے۔آپ کی ملاقات کی جگہ عموماً مسجد ہی ہے۔آپ اگر بیمار نہ ہوں تو برابر پانچ وقت نماز با جماعت پڑھتے ہیں اور نماز با جماعت کے لئے از بس تاکید کرتے ہیں اور بارہا فرمایا ہے کہ مجھے اس سے زیادہ کسی بات کا رنج نہیں ہو تا کہ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔مجھے یاد ہے جن دنوں آدمیوں کی آمدروفت کم تھی آپ بڑی آرزو ظاہر کیا کرتے تھے کہ کاش اپنی ہی جماعت ہو جس سے مل کر پانچوں وقت نماز