سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 37
37 بچوں کو مارنے اور ڈانٹنے کے سخت مخالف ہیں۔بچے کیسے ہی بسوریں۔شوخی کریں۔سوال میں تنگ کریں اور بیجا سوال کریں اور ایک موہوم اور غیر موجود شئے کے لئے حد سے زیادہ اصرار کریں آپ نہ تو کبھی مارتے ہیں نہ جھڑکتے ہیں اور نہ کوئی خفگی کا نشان ظاہر کرتے ہیں۔محمود کوئی تین برس کا ہو گا آپ لدھیانہ میں تھے میں بھی وہیں تھا گرمی کا موسم تھا مردانہ اور زنانہ میں ایک دیوار حائل تھی آدھی رات کا وقت ہوگا جو میں جاگا اور مجھے محمود کے رونے اور حضرت کے ادھر ادھر کی باتوں میں بہلانے کی آواز آئی حضرت اسے گود میں لئے پھرتے تھے اور وہ کسی طرح چپ نہیں ہوتا تھا۔آخر آپ نے کہا دیکھو محمود وہ کیسا تارا ہے بچہ نے نئے مشغلہ کی طرف دیکھا اور ذرا چپ ہوا۔پھر وہی رونا اور چلانا اور یہ کہنا شروع کر دیا ” یا تارے جانا " کیا مجھے مزہ آیا اور پیارا معلوم ہوا آپ کا اپنے ساتھ یوں گفتگو کرنا ” یہ اچھا ہوا ہم نے تو ایک راہ نکالی تھی اس نے اس میں بھی اپنی ضد کی راہ نکالی" آخر بچہ روتا رو تا خود ہی جب تھک گیا چپ ہو گیا مگر اس سارے عرصہ میں ایک لفظ بھی سختی کا یا شکایت کا آپ کی زبان سے نہ نکلا۔بات میں بات آگئی حضرت بچوں کو سزا دینے کے سخت مخالف ہیں میں نے بارہا دیکھا ہے ایسی کسی چیز پر برہم نہیں ہوتے جیسے جب سن لیں کہ کسی نے بچہ کو مارا ہے۔یہاں ایک بزرگ نے ایک دفعہ اپنے لڑکے کو عادتاً مارا تھا حضرت بہت متاثر ہوئے اور انہیں بلا کر بڑی درد انگیز تقریر فرمائی فرمایا میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔فرمایا ایک جوش والا آدمی جب ، کسی بات پر سزا دیتا ہے اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اور باسکون اور باد قار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا