سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 33
33 ہیں۔بد زبان ظاہر میں ڈنڈے کے زور سے کامیاب ہو جائے گر دہ گھر کو بہشت نہیں بنا سکتا۔ہمارے حضرت کی سیرت اس کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔حضرت کی زوجہ محترمہ آپ سے بیعت ہیں اور آپ کے منجانب اللہ ہونے پر صدق دل سے ایمان رکھتی سخت سے سخت بیماریوں اور اضطراب کے وقتوں میں جیسا اعتماد انہیں حضرت کی دعا پر ہے کسی چیز پر نہیں۔وہ ہر بات میں حضرت کو صادق و مصدوق مانتی ہیں جیسے کوئی جلیل سے جلیل صحابی مانتا ہے ان کے کامل ایمان اور راسخ اعتقاد کا ایک بین ثبوت سنئے۔عورتوں کی فطرت میں سوت کا کیسا برا تصور ودیعت کیا گیا ہے۔کوئی بھیانک قابل نفرت چیز عورت کے لئے موت سے زیادہ نہیں۔عربی میں سوت کو ضرہ کہتے ہیں۔حضرت کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے اور جس کا ایک حصہ خدا کے فضل سے پورا ہو چکا ہے اور دوسرا دور نہیں کہ خدا کے بندوں کو خوش کرے حضرت بیوی صاحبہ مکرمہ نے بارہا رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بارہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور جھوٹ کا زوال و ابطال ہو۔ایک روز دعا مانگ رہی تھیں حضرت نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں آپ نے بات سنائی کہ یہ رہی ہوں۔حضرت نے فرمایا سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے آپ نے فرمایا کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں خواہ میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں۔برادران یہ ایمان تو میں مسلمانوں کے مردوں میں بھی نہیں دیکھتا۔کیا ہی مبارک ہے وہ مرد اور مبارک ہے وہ عورت جن کا تعلق باہم ایسا سچا اور مصفا ہے اور کیا بہشت کا نمونہ وہ گھر ہے جس کا ایسا مالک اور ایسے اہل بیت ہیں۔میرا اعتقاد ہے کہ شوہر کے نیک و بد اور اس کے مکار اور فریبی یا راستیاز اور متقی ہونے سے عورت خوب آگاہ ہوتی ہے۔حقیقت میں ایسے مانگ