سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 23
23 اور خود بھی فرماتے ہیں کہ میری جان پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔مدت ہوئی ایک مقام پر میں خود انہیں دیکھنے گیا شاید دس منٹ سے زیادہ میں نہ بیٹھا ہوں گا جو آپ مجھ سے فرماتے ہیں کچھ اور کام بھی ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہی جمعیت قلب اور کوہ وقاری اور ظلم اکسیر ہے جس میں ہو اور یہی صفت ہے جس سے اولیاء مخصوص اور میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامہ قیامت برپا ہے بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں چیخ رہی ہیں چلا رہی ہیں یہاں تک کہ بعض آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہیں اور پوری زنانہ کر تو تیں کر رہی ہیں۔مگر حضرت یوں لکھے جا رہے ہیں اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں یہ ساری لا نظیر اور عظیم الشان کتابیں عربی اردو فارسی کی ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں۔میں نے ایک دفعہ پوچھا اتنے شور میں حضور کو لکھنے میں یا سوچنے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوتی۔مسکرا کر فرمایا میں سنتا ہی نہیں تشویش کیا ہو اور کیونکر ہو۔ایک دفعہ کا ذکر ہے محمود چار ایک برس کا تھا حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک قول بھی تھا پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت میں مصروف ہیں سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت کو ملانے کے لئے کسی گذشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی۔اس سے پوچھتے ہیں خاموش اس سے پوچھتے ہیں دیکا جاتا ہے۔آخر لکھنے ایک بچہ بول اٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دئیے عورتیں بچے اور گھر کے