سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 19
19 نسبت پوچھنا شروع کیا اور کہا آپ کا کام بہت نازک اور آپ کے سر پر بھاری فرائض کا بوجھ ہے آپ کو چاہئے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال کریں اور ایک خاص مقوی غذا لارنا آپ کے لئے ہر روز طیار ہونی چاہئے۔حضرت نے فرمایا ”ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں ایسی مصروف ہوتی ہیں کہ اور باتوں کی چنداں پروا نہیں کرتیں۔" اس پر ہمارے پرانے موحد خوش اخلاق نرم طبع مولوی عبداللہ غزنوی کے مرید نشی عبدالحق صاحب فرماتے ہیں۔واجی حضرت آپ ڈانٹ ڈپٹ کر نہیں کہتے اور رعب پیدا نہیں کرتے۔میرا یہ حال ہے کہ میں کھانے کے لئے خاص اہتمام کیا کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ میرا حکم کبھی مل جائے اور میرے کھانے کے اہتمام خاص میں کوئی سرمو فرق آجائے ورنہ ہم دوسری طرح خبر لے لیں۔" میں ایک طرف بیٹھا تھا منشی صاحب کی اس بات پر اس وقت خوش ہوا اس لئے کہ یہ بات بظاہر میرے محبوب و آقا کے حق میں تھی اور میں خود فرط محبت سے اسی سوچ بچار میں رہتا تھا کہ معمولی غذا سے زیادہ عمدہ غذا آپ کے لئے ہونی چاہئے اور ایک دماغی محنت کرنے والے انسان کے حق میں لنگر کا معمولی کھانا بدل ما ستحلل نہیں ہو سکتا۔اس بنا پر میں نے نشی صاحب کو اپنا بڑا موید پایا اور بے سوچے سمجھے (در حقیقت ان دنوں الہیات میں میری معرفت ہنوز بہت سا درس چاہتی تھی) بوڑھے صوفی اور عبداللہ غزنوی کی صحبت کے تربیت یافتہ تجربہ کار کی تائید میں بول اٹھا کہ ہاں حضرت با منشی صاحب درست فرماتے ہیں۔حضور کو بھی چاہئے کہ درشتی سے یہ امر منوائیں۔حضرت نے میری طرف دیکھا اور تبسم سے فرمایا ”ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پر ہیز کرنا چاہئے۔" اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں ذکی الحس آدمی اور ان دنوں تک عزت و ہے عزتی کی دنیا داروں کی عرفی اصطلاح کے قالب میں ڈھالنے اور اپنے تئیں ہر بات