سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 16
16 بخش اور سرور افزامکان اور گھر ہونے کے ماتم کدے اور شیون سرا بنا رکھا ہے۔اس بنا پر پہلے میں حضرت خلیفتہ اللہ کی معاشرت کی نسبت کچھ لکھتا ہوں اس لئے کہ سب سے بڑی اور قابل فخر اہلیت کسی شخص کی اس سے ثابت ہوتی ہے کہ اہل بیت سے اس کا تعلق اعلیٰ درجہ کا ہو اور اس کا گھر اس کی قوت انتظامی اور اخلاق کی وجہ سے بہشت کا نمونہ ہو جس کی بڑی بڑی تعریف یہی ہے کہ وہاں دلوں کی تپش اور جلن اور رنج اور کدورت اور غل اور حسد کے محرکات اور موجبات نہ ہوں گے۔خدا تعالٰی کی حکیم کتاب میں آیا ہے۔وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ اور اس حکیم کتاب کا عملی نمونہ ہمارے سید و مولی رحمتہ للعالمین ال فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے افضل اور خیرو برکت سے بھرا ہوا وہی ہے جس کی رفتار اپنے اہل سے خیر و برکت کی ہے۔عرصہ قریب پندرہ برس کے گذرتا ہے جب سے حضرت نے بار دیگر خدا تعالٰی کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اٹھایا ہے۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔کوئی بشر خیال کر سکتا ہے کہ ضعیف اور کم علم جنس کی طرف سے اتنے دراز عرصہ میں کوئی ایسی ادایا حرکت خلاف طبع سرزد نہ ہوئی ہوگی۔تجربہ اور عرف عام گواہ ہے کہ خانہ نشین ہم پہلو کی طبعی اور جہالت سے کیسے کیسے رنج دہ امور کے مصدر ہوا کرتے ہیں۔با ایں ہمہ وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے جسے اتنی مدت میں کسی قسم کی رنج اور تنفض عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھڑئی ہو۔وہ کڑوا گوشت کا ٹکڑا جو تمام زہروں کا مخزن اور ہر قسم کے غل اور حسد اور کینہ اور عداوت کا مشاہر ہے اور جو اس عالم میں دوزخ در بغل ہے اگر کسی شخص سے قطعاً مسلوب نہ ہو چکا ہو اور خدائے قدوس کے دست خاص نے اس کا تزکیہ و تطہیر اور شرح صدر نہ کیا ہو تو خیال میں آسکتا ہے کہ اس پر پیچ و تاب اور آتش ناک