سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 15
15 اس کی تہ سے کام کی بات نکال لاتا ہے اور یہ بھی خاص فضل مجھ پر ہے کہ زندگی کی کثرت اور وحدت کی گھڑیوں میں نہ تو میں ہی کبھی اپنے دل کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہوں اور نہ میرے دل نے اپنی اصلی صورت اور حقیقی حقیقت کے خلاف کسی اور روپ میں کبھی میرے سامنے جلوہ افروزی کی ہے۔اس در از تجریہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت اندرونی و بیرونی معاملات میں جس قدر دیکھی ہے میں آرزو رکھتا ہوں کہ اسے بطور مصالح و مواد کے قلمبند کروں کہ ہر ایک تیز ذہن سلیم الفطرت نگار خانہ عالم کی سحر آفرینیوں کا شیدا اس مواد سے خود ایک مجسمہ یا تصویر تیار کرے اور پھر اس کے نقوش میں غور کرے کہ ایسی تصویر بجز منجانب اللہ انسان کے اور کس کی ہو سکتی ہے۔اگرچہ سرسری نگاہ سے اوپری کی بات معلوم ہوئی کہ مومنین معتقدین سے یہ خطاب کیا تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ انکا ایمان ایسی جزئیات اور تفاصیل سے مستغنی ہوتا اور ان کا عشق تو پکار پکار کر یہ پڑھتا ہے ع حاجت مشاطه نیست روئے دلارام را مگر جب میں اپنے نفس کو دیکھتا ہوں کہ اس علم بالجزئیات سے اس نے کیا کیا فائدے حاصل کئے اور یہ واقفیت منازل سلوک کے طے کرنے میں میری کس قدر مدد گار ہوئی ہے تو میری روح صبح اور ہمدردی کے جوش سے مجھے کشاں کشاں اس طرف لاتی ہے کہ ان بھائیوں کو بھی اس سے آگاہ کروں جنہیں خدا کی مشیت اور ارادہ نے ایسا موقع نہیں دیا جو محض فضل سے مجھے دیا ہے۔اور میرا دلی اعتقاد ہے کہ میں اس تقریب سے ان بہت کی اندرونی اور معاشرتی خطرناک بیمایوں کے مجرب نسخے پیش کر سکوں گا جنہوں نے اکثر گھروں کو ان مکانوں کی طرح جن میں وق اور سل کی بیماری متوارث چلی آتی ہے بجائے راحت