سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 11
11 " واعظوں اور منادوں کے رنگ میں سادہ دہقانوں اور گنواروں کو خراب کر رہا ہے۔زنانہ واعظوں کے رنگ میں مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگا رہا ہے۔مشن ہسپتال وہ کام کر رہے ہیں جو کسی چیر اور اکراہ نے دنیا میں وہ کام نہیں کیا۔قحط کے دنوں میں ہزار ہا غریبوں اور مفلسوں کو روٹی دیگر بے راہ کیا جاتا ہے۔س۔حکام مجازی ہے رسوخ پیدا کر کے ہزاروں آدمی ان کے دباؤ کے نیچے آئے۔اور مرتد ہوئے۔ی۔اخباروں۔ماہواری رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ سے ہزاروں کو تباہ کیا جاتا ہے۔کالج بادہ پرستی اور بے دینی پھیلانے کے عمدہ ذریعے ہیں۔ان میں ایسے کورس اور تعلیمی کتابیں آئے دن مقرر کئے جاتے ہیں کہ ان میں سے بعض کا میلان قطعاً دہریت کی طرف ہوتا اور بعض صریحاً اسلام پر حملہ کرنے کی نیت سے لکھی گئی ہیں۔اور چونکہ عملہ منتحسین کتب درسیہ میں مقتدر اعضا پادری ہوتے ہیں اس لئے وہ ایسی کتابوں کے انتخاب کو روا رکھتے ہیں۔غرض ان کالجوں نے عجیب شتر مرغ کے رنگ کے آدمی دنیا کو دیئے ہیں جو نہ حقیقی فلاسفر ہیں اور نہ واقعی جاہل ہیں۔ہاں اسلام کو بعضے علمی رانگ میں اور اکثر عملاً استخفاف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یورپ کے آزادوں اور بے یاکوں کی طرح مذہب حق اور شرائع حقہ کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔اکثر پورے زندیق اور ایا حتی ہیں۔ایک بے دین ایم اے جب فتق سے روکا گیا اور نکاح کے لئے اسے کہا گیا۔فرانس کے زندوں کی طرح بول اٹھا کہ نکاح ایک خواہ مخواہ کی بندھن ہے۔انسان آزاد ہے کتوں کی طرح جو چاہے کرے۔