سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 24 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 24

24 لوگ حیران اور انگشت بدنداں کہ اب کیا ہوگا۔اور در حقیقت عادتا ان سب کو علی قدر مراتب بری حالت اور مکروہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں خوب ہوا اس میں اللہ تعالی کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب خدا تعالی چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے۔اس موقع پر بھی ابنائے زمانہ کی عادات سے مقابلہ کئے بغیر ایک نکتہ چیں نگاہ کو اس نظارہ سے واپس نہیں ہونا چاہئے۔ایسا ہی ایک دفعہ اتفاق ہوا جن دنوں حضرت تبلیغ لکھا کرتے تھے مولوی نور الدین صاحب تشریف لائے حضرت نے ایک بڑا بھاری دو ورقہ مضمون لکھا اور اس کی فصاحت و بلاغت خداداد پر حضرت کو ناز تھا اور وہ فارسی ترجمہ کے لئے مجھے دینا تھا مگر یاد نہ رہا اور جیب میں رکھ لیا اور باہر سیر کو چل دیئے مولوی صاحب اور جماعت بھی ساتھ تھی واپسی پر کہ ہنوز راستہ ہی میں تھے مولوی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ دے دیا کہ وہ پڑھ کر عاجز راقم کو دے دیں مولوی صاحب کے ہاتھ سے وہ مضمون گر گیا واپس ڈیرہ میں آئے اور جیٹھ گئے حضرت معمولاً اندر چلے گئے میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت نے مضمون نہیں بھیجا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور ابھی مجھے ترجمہ بھی کرتا ہے۔مولوی صاحب کو دیکھتا ہوں تو رنگ فق ہو رہا ہے آپ نے نہایت بے تابی سے لوگوں کو دوڑایا کہ نہیں پکڑیو، لیکیو کانز راہ میں گر گیا۔مولوی صاحب اپنی جگہ بڑے بخل اور حیران تھے کہ بڑی خفت کی بات ہے حضرت کیا کہیں گے یہ عجیب ہوشیار آدمی ہے ایک کاغذ اور ایسا ضروری کاغذ بھی سنبھال نہیں سکا۔حضرت کو خبر ہوئی معمولی ہشاش بشاش چهره تقسیم ریز لب تشریف لائے اور بڑا عذر کیا کہ مولوی صاحب کو کاغذ کے گم ہونے سے بڑی تشویش ہوئی مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر دوارو اور تکاپو کیوں کیا گیا میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر ہمیں عطا فرما دے گا۔برادران ! ان سب باتوں کی جڑ خدائے زندہ اور قادر کی ہستی پر ایمان ہے یہ