سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 47
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام 47 اور بڑے بڑے لوگ دور دور سے آ کر اس کے در کی غلامی کرتے ہیں“۔حضرت اقدس علیہ السلام اس کی ان باتوں کو سن کر مسکراتے جاتے۔پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں مجھے یہ ساری باتیں یاد ہیں۔یہ سب اللہ کا فضل ہے ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔“ اور پھر محبت سے اسے فرمایا ٹھہرو میں تمہارے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔“ یہ سب باتیں بیان کرتے ہوئے وہ سکھ بھی روتا رہا اور کہنے لگا آج مرز اغلام مرتضی زندہ ہوتے تو کیا نظارہ دیکھتے۔" (288) پیارے بچو! یہ ایک سکھ دیہاتی کی گواہی ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیسی عظمت خدا تعالی نے عطا میں موعودعلیہ کسی خدا تعالیٰ نے فرمائی۔آپ علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں:۔ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو رہنے والے تو چکوال کے تھے مگر راولپنڈی میں دکان کیا کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لیے قادیان آیا سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا تھا۔رات کو