سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 36
36 36 بچو ! یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچے خدا تعالیٰ کے نشان تھے لیکن آپ علیہ السلام نے کسی بچے کی سالگرہ نہیں منائی۔جانتے ہیں کیوں؟ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کا ہر عمل سنت نبوی ﷺ کی پیروی میں تھا اور آپ علیہ السلام نے وہ کام نہیں کیے جو آنحضرت ﷺ نے ثابت نہیں۔آپ علیہ السلام کبھی کبھی بچوں کو پیار سے چھیڑا بھی کرتے۔وہ اس طرح کہ کسی بچے کا پہنچہ پکڑ لیا اور کوئی بات نہ کی۔خاموش ہور ہے یا بچہ لیٹا ہوا ہو تو اس کا پاؤں پکڑ کر تلوے سہلاتے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس طرح میرے ساتھ کئی مرتبہ ہوا۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں' دوسروں کی خدمت سے بھی آپ علیہ السلام خوش ہوتے۔ایک ضعیفہ مائی تابی ہمارے گھر میں رہا کرتی تھیں۔دائمی سردرد کی مریضہ تھیں۔آپ علیہ السلام ان کا بہت خیال رکھتے۔دوائیں بھی دیتے اور بادام کا شیرا ان کو پلواتے۔میں مائی تائی کو شیرہ رگڑ کر اکثر پلاتی تو بہت دعائیں دیتی اور مجھے احساس تھا کہ آپ علیہ السلام بھی میرے اس کام سے خوش ہوں گے۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آپ علیہ السلام کے رفیق تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کی بیوی جن کو سب مولود پانی کہتے تھے ، کا