سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 28
سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام 28 ایک بڑا اہم مضمون لکھنا تھا اور جلد لکھنا تھا۔میں بھی اتفاقاً جا نکلا۔کیا دیکھتا ہوں حضور علیہ السلام کمر بستہ اور مستعد کھڑے ہیں جیسے کوئی یورپین اپنی ڈیوٹی پر چست اور ہوشیار کھڑا ہوتا ہے۔پانچ ، چھ صندوق کھول رکھے ہیں اور چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں کسی کو کچھ اور کسی کو کوئی عرق دے رہے ہیں۔تین گھنٹے تک یہی بازار لگار ہا اور ہسپتال جاری رہا۔فراغت کے بعد میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔“ حضور علیہ السلام نے بڑے اطمینان سے انہیں جواب دیا یہ بھی تو دینی کام ہے۔یہ مسکین لوگ ہیں۔یہاں کوئی ہسپتال نہیں ہے ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا کر رکھتا ہوں۔یہ بہت ثواب کا کام ہے۔مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پرواہ نہ ہونا چاہیئے۔(14) ال 66 سردیوں کا موسم تھا۔آپ علیہ السلام نے واسکٹ پہن رکھی تھی صاحبزادہ محمود احمد صاحب نے ایک اینٹ کا ٹکڑا آپ علیہ السلام کی جیب میں ڈال دیا۔جب آرام کرنے کے لئے لیٹے تو وہ اینٹ چھنے لگی۔آپ علیہ السلام کے خادم میر حامد علی صاحب آپ علیہ السلام کو دبارہے تھے ان کو فر مایا " چند دنوں سے ہماری پہلی میں درد ہے۔میر حامد علی صاحب نے جسم پر ہاتھ پھیرا تو اینٹ پر لگ گیا۔عرض کیا حضور اینٹ تھی جو چبھی