سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 29
سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام 29 تھی۔فرمایا ” اوہو! محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں، میں اس سے کھیلوں گا۔" (15) اس طرح بچے کی دلداری بھی کی اور ان کی رکھوائی ہوئی چیز کی حفاظت بھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جب چھوٹے بچے تھے۔تین سال کی عمر ہوگی۔ان کو شکر کھانے کی عادت ہو گئی۔ہمیشہ حضور علیہ السلام کے پاس آ کر ہاتھ پھیلا کر کہتے ” ابا ! چھٹی ( چھٹی سفید کو کہتے ہیں) آپ علیہ السلام کتاب لکھ رہے ہوتے ، مصروف ہوتے، کام چھوڑ کر اٹھتے ، چینی نکال کر دیتے پھر اپنا کام کرنے لگ جاتے۔بچہ پھر دوبارہ آتا اور وہی مطالبہ کرتا۔روزانہ کئی کئی بار ایسا ہوتا۔آپ ہر دفعہ اٹھتے اور بچے کو چینی دیتے۔(16) آپ علیہ السلام صرف بچوں کو پیار ہی نہ کرتے بلکہ ان کی تربیت کی طرف بھی توجہ فرماتے اور اگر بچہ غلطی کرتا تو فوراً اصلاح فرماتے۔ہم چند واقعات آپ کو سناتے ہیں۔ایک مرتبہ آپ علیہ السلام اپنے اس حجرہ (کمرہ) میں کھڑے تھے جہاں حضرت اماں جان بھی پاس ہی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مرزا نظام دین ( جو آپ کے سخت مخالف تھے ) کا نام لیا لیکن صرف نظام دین کہا۔آپ علیہ السلام نے ٹو کا اور کہا ” میاں آخر وہ تمہارا چچا ہے۔