سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 926 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 926

۹۲۶ اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ یکے بعد دیگرے دونجاشیوں کو تبلیغی خط لکھے گئے تھے۔یعنی ایک خط تو اصحمہ نامی نجاشی کو لکھا گیا جس کے پاس ابتدائی صحابہ پناہ لینے کی غرض سے ہجرت کر کے گئے تھے اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملنے پر اسلام قبول کیا اور اسلام پر ہی ۹ ہجری میں وفات پائی۔اور دوسرا خط اس کے بعد آنے والے نجاشی کولکھا گیا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔اور کفر کی حالت میں ہی فوت ہوا۔اس لئے بعض مؤرخین کو اس معاملہ میں غلطی لگ گئی ہے اور انہوں نے دونوں نجاشیوں کو ایک ہی سمجھ لیا ہے۔حالانکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدہ علیحدہ زمانوں میں دو علیحدہ نجاشیوں کو خط لکھے تھے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس کی صریح روایت آتی ہے کہ جس نجاشی کو بعد والا خط لکھا گیا وہ اس نجاشی کے علاوہ تھا جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔اور زرقانی اور تاریخ خمیس نے بھی اس معاملہ میں مفصل بحث کر کے دونوں کو علیحدہ علیحدہ ثابت کیا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نجاشی کو تبلیغی خط ارسال کیا جس پر وہ مسلمان ہو گیا تو اسی وقت آپ نے اس کے نام ایک دوسرا خط پرائیویٹ مضمون کا بھی لکھا تھا۔اس خط میں آپ نے نجاشی کو دوباتوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ایک یہ کہ وہ ابوسفیان کی بیٹی ام حبیبہ کے ساتھ آپ کا غائبانہ نکاح پڑھ دے اور دوسرے یہ کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کو جنہیں حبشہ میں گئے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تھا اپنے انتظام میں عرب واپس بھجوا دے۔نجاشی نے ان دونوں باتوں کی تعمیل کی یعنی اولاً اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُم حبیبہ کے نکاح کا اعلان کیا اور پھر حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کے لئے کشتی کا انتظام کر کے انہیں عرب میں واپس بھجوا دیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی فتح سے واپس آرہے تھے اور روایت آتی ہے کہ آپ حضرت جعفر سے مل کر اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا کہ جعفر اور اس کے ساتھیوں کی آمد سے زیادہ خوشی ہوئی ہے۔مگر افسوس ہے کہ حضرت جعفر کی زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی اور وہ اس کے تھوڑا عرصہ بعد ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے۔کے ل : زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۶ نیز صفحه ۳۶۶ و تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۳۳ ۳۴۷ : حضرت علی کے بڑے بھائی بخاری حالات غزوہ موتہ واسدالغابه وطبری وزرقانی