سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 900 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 900

۹۰۰ جواہل فارس سے واپس چھینی گئی تھی اپنی جگہ پر دوبارہ رکھی جانے والی تھی اور یہ سفر اس شان سے کیا گیا کہ رستہ میں ہر قل جہاں جہاں سے گزرتا تھاز مین پر فرش اور فرش کے اوپر پھولوں کی سیج بچھائی جاتی تھی۔ہر قل کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی محط صلح حد جہیہ کے بعد خانہ سب سے پہلا حدیبیہ تبلیغی خط ہرقل کے قیصر روما کے نام بھجوایا گیا۔یہ خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معا بعد ماہ ذوالحجہ 4 ہجری میں روانہ کیا۔اور اس خدمت کے لئے آپ نے اپنے ایک ہوشیار اور مخلص صحابی دحیہ بن خلیفۃ الکلبی کو منتخب فرمایا جو اس سے پہلے بھی شام کی طرف سفر کر چکے تھے اور اس علاقہ کے واقف تھے۔دحیہ ایک خوشرو نو جوان تھے جن کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کشفی طور پر حضرت جبرائیل کو بھی دیکھا تھا۔اور آپ نے اس خط کے بھجواتے ہوئے یہ امید ظاہر فرمائی تھی کہ دحیہ یا جو شخص بھی یہ خدمت بجالائے گا خواہ وہ بظاہر اس مہم میں کامیاب ہو یا نہ ہو وہ انشاء اللہ ضرور جنت میں جائے گا۔اس تبلیغی خط کی تیاری اور مہر وغیرہ لگانے کے بعد آپ نے دحیہ کو ہدایت فرمائی کہ میرا یہ خط پہلے بصری کے رئیس کے پاس لے جاؤ ( جو عرب کے شمال میں قیصر کی طرف سے گویا موروثی گورنر یا حاکم تھا) اور پھر اس کے توسط سے قیصر کے پاس پہنچو 2 اس وقت بصری کا گورنر حارث بن ابی شمر تھا جو اس علاقہ میں ریاست غسان کا والی اور حکمران تھا۔بصری کے گورنر یعنی ملک غسان کا واسطہ اختیار کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دانش مندی اور حسن تدبیر کا ثبوت دیا جو آپ اس سے قبل انگوٹھی کے تیار کرانے میں ظاہر فرما چکے تھے۔کیونکہ غالباً آپ قیصر وکسریٰ کے درباروں کے متعلق یہ بات سن چکے تھے کہ یہ لوگ اپنی دنیوی بڑائی اور علومر تبت کی وجہ سے عموماً کوئی چھٹی براہ راست وصول نہیں کرتے جب تک کہ وہ علاقہ کے گورنر یا رئیس کے توسط سے نہ آئے اور چونکہ آپ کی اصل غرض کلمہ حق کی تبلیغ تھی اس لئے آپ نے ان درباری آداب کو لائف آف محمد مصنفہ میور صفحه ۳۶۹ HERACLIUS : ۵ شمائل ترمندی و مسند احمد جلد ۲ صفحه ۱۰۷ ابن اسحاق بحوالہ زرقانی جلد ۲ صفحه ۳۳۵ ابن سعد حوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۴، ۳۳۷ زرقانی کے یہ عرب کے شمال اور شام کے جنوب میں ایک شہر تھا جسے انگریزی میں BOSRA کہتے ہیں۔اسے عراق کے جدید شہر بصرہ کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہئے۔بخاری کتاب الجہاد باب دعا النبی الی الاسلام زرقانی جلد ۲ صفحه ۳۳۵