سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 901 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 901

۹۰۱ ملحوظ رکھنا ضروری خیال کیا تا کہ ان کی وجہ سے اصل کام میں کوئی روک نہ پیدا ہو سکے۔ضمنا آپ کی یہ نیت بھی ضرور ہوگی کہ اس طرح اصل مخاطب کے علاوہ ایک درمیانی رئیس تک بھی آپ کا پیغام پہنچ جائے گا اور جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے یہی طریق آپ نے مملکت فارس کے کسری کے متعلق اختیار کیا جسے مراسلہ بھجواتے ہوئے آپ نے اپنے اپچی کو ہدایت فرمائی تھی کہ پہلے یہ خط بحرین کے رئیس کے پاس لے جانا اور پھر اس کے توسط سے کسریٰ کے پاس پہنچنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ فعل جہاں ایک طرف آپ کے حزم واحتیاط اور حسن تدبیر کی دلیل ہے وہاں وہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ دنیوی حکمرانوں کے جائز آداب ملحوظ رکھنا نبوت کی شان کے منافی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون کی طرف بھجوایا تو انہیں ہدایت فرمائی کہ: فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنَا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَرُ اَوْ يَخْشُى O یعنی " فرعون کے پاس جا کر اس کے ساتھ نرم انداز پر گفتگو کرنا شاید وہ اسی طرح نصیحت حاصل کرلے اور خدا سے ڈرنے کا رستہ اختیار کرلے۔“ غالبا ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر قل کے نام خط روانہ کرنے کی تیاری ہی فرمارہے تھے کہ ایک غیبی نصرت کے ماتحت ہر قل کو خود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف توجہ پیدا ہوگئی۔کیونکہ بخاری میں روایت آتی ہے جو اغلباً اسی موقع سے تعلق رکھتی ہے کہ جو نہی شہنشاہ ہر قل ایلیا میں آیا کے تو ایک صبح کو وہ بہت پریشان خاطر اور گھبرایا ہوا نظر آتا تھا جس پر اس کے بعض مذہبی درباریوں نے اس سے عرض کیا کہ آج آپ کی حالت کچھ پریشان نظر آتی ہے، یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا میں نے آج رات ستاروں میں غور کر کے ( ہر قل علم ہیئت میں کافی دسترس رکھتا تھا) معلوم کیا ہے کہ کسی ختنہ کرنے والی قوم میں ایک نئے بادشاہ کا ظہور ہوا ہے۔اور اس نے پوچھا کہ آج کل کون کون سی قوم ختنہ کرتی ہے؟ اس کے درباریوں نے جواب دیا کہ ہمارے علم میں تو یہودیوں کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا اور آپ کو یہودیوں کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔آپ اپنی حکومت کے مختلف شہروں میں حکم بھجوادیں کہ یہود کو قتل کرنا شروع کر دیا بخاری کتاب العلم و کتاب الجہاد : ایلیا بیت المقدس یعنی یروشلم کا پرانا نام ہے اور غالباً یہ لفظ عبرانی زبان کا ہے کیونکہ عبرانی میں ایل خدا کو کہتے ہیں گویا ایلیا کے معنے خدا کی طرف منسوب ہونے والے شہر یا بالفاظ دیگر مقدس شہر کے ہیں اور یہی بیت المقدس کے لفظ کا مفہوم ہے : سورة طا : ۴۵