سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 841
۸۴۱ صلح حدیبیہ اور اس کے عظیم الشان نتائج ذ وقعده ۶ ہجری صلح حدیبیہ کی اہمیت اب ہم اسلامی تاریخ کے اس حصہ میں داخل ہونے لگے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے دوسرے دور میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔میری مراد صلح حدیبیہ سے ہے جس کے نتیجہ میں کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگ وجدال کا سلسلہ بند ہو کر اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا اور دنیا کو اس بات کے اندازہ کرنے کا موقع میسر آیا کہ اسلام کی اصل طاقت صلح میں ہے نہ کہ جنگ میں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کی زندگی میں بظاہر جنگ نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رؤساء قریش کی حکومت کے ماتحت زندگی گزارتے تھے مگر قریش کی یہ حکومت جنگ سے بھی بڑھ کر مظالم ومصائب کا منظر پیش کرتی تھی کیونکہ قریش کی ساری طاقت اسلام کو مٹانے میں خرچ ہورہی تھی۔اس کے بعد مدنی زندگی کا دور آیا تو اس کے ساتھ ہی جنگ کا آغاز ہو گیا اور بے چارے مسلمان ایک مصیبت میں سے نکل کر دوسری مصیبت اور بعض لحاظ سے بڑی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ، اس لئے حقیقتا آج تک اسلام کو اپنی صلح کی طاقت کے اظہار کا موقع ہی نہیں ملا تھا، لیکن صلح حدیبیہ نے جس کا اب ہم ذکر شروع کرنے لگے ہیں یہ موقع میسر کرا دیا اور دنیا جانتی ہے کہ اس امتحان میں اسلام نے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت کر دی کہ اس کی صلح کی طاقت اس کی جنگ کی طاقت سے بدر جہا بہتر اور بدر جہا افضل ہے۔الغرض وہ تاریخی واقعہ جس کا ہم اب ذکر کر نے لگے ہیں ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔اور ہم اپنے ناظرین سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کے حالات کو نظر غور سے مطالعہ فرمائیں۔مطابق فروری مارچ ۶۲۸ء